Urdu book · انسان کی منزل

حقیقت کی دریافت

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

مغرب کے ترقی یافتہ سماجوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہاں ایک نئی ''بیماری‘‘ پیدا ہوئی ہے جس کو فلوئنزا(affluenza) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ خوش حال طبقے کی بیماری ہے۔ خوش حال گھرانوں میں ذہنی سورماؤں کے بجائے ذہنی بونے (intellectual dwarf) بن رہے ہیں۔ ان کا آئی کیو (IQ) بہت کم ہوتا ہے۔ وہ کاہل ہوتے ہیں اور کام میں حصہ نہیں لے پاتے۔ آج بھی اور پچھلی تاریخ میں ایسا ہوا ہے کہ مصیبتوں میں پلنے والے لوگوں نے بڑے بڑے کام کئے ہیں، انڈیا میں تقریباً تمام بڑے لیڈروں نے مشکل حالات میں پرورش پائی۔ اسی طرح جتنے بڑے بڑے دولت مند لوگ ہیں وہ سب غریب گھرانوں میں پیدا ہوئے اور پھر محنت کر کے ترقی حاصل کی۔ انسانی تاریخ کے ہر دور میں ایسے مفکر پیدا ہوتے رہے جنھوں نے یہ کوشش کی کہ وہ آئیڈیل انسانی سماج بنائیں یا آئیڈیل ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ ہر ایک اپنی تمام کوششوں کے با وجود صرف ایک غیر معیاری سماج بنا سکا۔ تاریخ کا یہ ظاہر ہے بھی خالق کے تخلیقی منصوبے کو سامنے رکھنے سے پوری طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ خالق نے موجودہ دنیا اس لیے نہیں بنائی کہ یہاں آئیڈیل سماج یا آئیڈیل ریاست قائم ہو۔ موجودہ دنیا کی محدودیت اور اس کے اندر مختلف قسم کے ڈس ایڈوانٹیج (disadvantage) کا ہونا حتمی طور پر اس امر میں مانع ہے کہ یہاں کوئی آئیڈیل سماج یا آئیڈیل ریاست قائم ہو سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page