مذہب اور انسانی زندگی
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہب اور انسانی زندگی مذہب کیا ہے۔ مذہب کا خلاصہ وہی چیز ہے جس کو عام زبان میں اسپرپچولٹی کہا جاتا ہے۔ مذہب دراصل اسپر پچول سائنس کا دوسرا نام ہے۔ دوسرے علوم اگر خارجی علوم ہیں تو مذہب وہ علم ہے جو داخلی انسان کا مطالعہ کرتا ہے۔ انسان بیک وقت دو قسم کی شخصیت رکھتا ہے۔ جسم اور روح ۔ دونوں ہی کی صحت اور ترقی کے لیے مسلسل غذا کی ضرورت ہے۔ جسم کی غذا وہ مادی چیزیں ہیں جن کو کھانا اور پانی کہا جاتا ہے۔ کوئی آدمی اگر اس طرح رہے کہ اس کو دیر تک کھانا اور پانی نہ ملے تو وہ جسمانی صحت کھو دے گا۔ یہاں تک کہ اگر زیادہ دیر تک اس کو مادی فاقہ پیش آئے تو وہ مر کر ختم ہو جائے گا۔ یہی معاملہ مذہب کا بھی ہے۔ مذہب انسان کی روحانی غذا ہے۔ مذہب انسان کی داخلی شخصیت کو تقویت دیتا ہے۔ مذہب انسان کی روحانی حیات کا ضامن ہے۔ مذہب نہ گانے بجانے کی دھوم کا نام ہے اور نہ کسی قسم کے rituals کا نام۔ مذہب دراصل سچائی کا نمائندہ ہے۔ سچائی مذہب ہے اور مذہب سچائی۔ مذہب کی ضرورت ہر شخص کو ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا بے طاقت۔ مذہب کے ذریعے آدمی کو زندگی کا نقطۂ آغاز ملتا ہے۔ جو آدمی مذہب سے محروم رہے وہ زندگی کے نقطۂ آغاز کو پانے سے بھی محروم رہے گا۔ مذہب اس سوال کا جواب ہے کہ میں کون ہوں (Who am I) ۔ مذہب انسان کو تخلیق کا راز بتاتا ہے۔ مذہب آدمی کو زندگی کا صحیح فلسفہ حیات دیتا ہے۔ مذہب زندگی کے لیے گائڈ بک کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذہب آدمی کو بے خبری کے اندھیرے سے نکال کر واقفیت کی روشنی میں لاتا ہے۔ مذہب آدمی کو سماج کا اچھا شہری بناتا ہے۔ مذہب آدمی کو وہ اخلاقی کوڈ عطا کرتا ہے جس کے مطابق وہ لوگوں کے درمیان سچا انسان بن کر رہے۔ مذہب آدمی کو تیار کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے پرابلم نہ بنے۔ مذہب آدمی کو دینے والا بناتا ہے، نہ کہ صرف لینے والا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader