مذہب اور انسانی زندگی
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
سمندروں سے بھی زیادہ طاقتور انسان بن جائے گا۔ یہاں ایک واقعہ نقل کرنا مناسب ہوگا جو تمثیل کی زبان میں بتاتا ہے کہ ایک سچا مذہبی انسان کس طرح ایک ناقابل تسخیر انسان ہوتا ہے۔ سچا مذہبی انسان وہ انسان ہوتا ہے کہ سمندر کا طوفان بھی اس کے لیے کوئی مسئلہ نہ بنے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کے ساحل سے ایک سمندری جہاز افریقہ کے لیے روانہ ہوا۔ اٹلانٹک سمندر میں وہ اپنا سفر طے کر رہا تھا کہ اچانک سخت طوفان آگیا۔ جہاز ہچکولے کھانے لگا۔ جہاز کے تمام مسافر گھبرا اُٹھے۔ تمام لوگ پریشانی کے عالم میں ادھر اُدھر دوڑنے لگے۔ جہاز سمندر کی سطح پر تنکے کی طرح الٹ پلٹ ہو رہا تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب بس وہ جلد ہی ڈوبنے والا ہے۔ اضطراب کے اس عالم میں ایک مسافر جہاز کے اندر ادھر اُدھر چل رہا تھا۔ اچانک اُس نے دیکھا کہ ایک گوشے میں ایک بچی اطمینان کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے اور اپنی گڑیا کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ مسافر نے اس بچی سے کہا کہ کیا تم کو خبر ہے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ بچی نے معصومیت کے ساتھ پوچھا کیا ہے۔ مسافر نے جواب دیا کہ ہمارا جہاز شدید طوفان میں گھر گیا ہے اور وہ جلد ہی ڈوبنے والا ہے۔ بچی نے اپنی گڑیا میں مشغول رہتے ہوئے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا: You know, my father is captain of this ship. He is not going to let it sink. بچی کا یہ واقعہ ایک سچے مذہبی انسان کی تصویر ہے۔ مذہبی انسان کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ کرائسس کے ٹائم میں بھی اپنے حواس کو برقرار رکھتا ہے۔ وہ کبھی حوصلہ نہیں کھوتا۔ وہ ہمیشہ امید میں جیتا ہے۔ وہ ہر صورتِ حال میں یہ کہنے کی کی پوزیشن میں ہوتا ہے کہ: God Almighty is the captain of my ship. He is not going to let it sink.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader