Urdu book · انسان کی منزل

مذہب اور انسانی زندگی

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اُس وقت مذہب اِس کے لیے یقین و اعتماد کا سر چشمہ ثابت ہوتا ہے۔ مذہب تمام پازیٹیو اخلاقیات کا سر چشمہ ہے۔ مذہب آدمی کو یہ طاقت دیتا ہے کہ وہ غصہ دلانے والے کو معاف کر دے۔ وہ لالچ سے اوپر اُٹھ جائے۔ وہ حسد کے جذبے کو اپنے اندر کچل دے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ٹالرنس کا معاملہ کرے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ یکساں طور پر عزت کا معاملہ کرے ۔ وہ اپنے آپ کو بے انصافی سے بجائے اور ہمیشہ انصاف پر قائم رہے۔ وہ اپنے دشمن سے بھی اچھا سلوک کرے۔ وہ اپنے سماج میں دینے والا بن کر رہا ہے نہ کہ صرف لینے والا۔ مذہب آدمی کو با مقصد انسان بناتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر با اصول کیریکٹر پیدا کرتا ہے۔ مذہب آدمی کے اندر سیلف کنٹرول اور سلف ڈسپلن کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ سچا مذہبی انسان اپنے نیچر کے اعتبار سے ایک قابل پیشین گوئی (predictable) انسان ہوتا ہے۔ سچے مذہبی انسان کے بارے میں کوئی شخص پیشگی طور پر یہ جان سکتا ہے کہ وہ کس صورتِ حال میں کس قسم کا رویہ پیش کرے گا۔ مذہبی انسان ایک سنجیدہ انسان ہوتا ہے۔ مذہبی انسان ایک آنسٹ انسان ہوتا ہے۔ مذہبی انسان وہ انسان ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنا احتساب کرتا رہے ۔ مذہبی انسان اپنے اندر ایک رکھتا ہے۔ مذہبی انسان کی یہ صفت اس کو ہمیشہ نیا انسان (self corrctive mechanism بناتی رہتی ہے۔ مذہب کسی انسان کے اندر یہ اعلی صفات کیوں کر پیدا کرتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مذہب کا سرا خدا سے جُڑا رہتا ہے اور خدا تمام اعلیٰ صفات کا مجموعہ ہے۔ خدا ہر انسان کے لیے سورس آف (source of inspiration) کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسپریشن مذہب کسی انسان کو گاڈ اور یونීڈ انسان بناتا ہے۔ مذہب انسان کے اندر گاڈ اور یونینڈ تھنکنگ پیدا کرتا ہے۔ مذہبی انسان کی سوچ گاڈ اورینٹیڈ (God oriented thinking) ہوتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو کسی مذہبی انسان کو نا قابل تسخیر انسان بنا دیتی ہے۔ مذہبی انسان کو خدا کی نسبت حاصل ہو جاتی ہے اور جس انسان کو خدا کی نسبت حاصل ہو جائے وہ سورج اور چاند اور پہاڑوں اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page