مثبت شخصیت کی تعمیر
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈی کنڈیشنگ اسی مصنوعی صورت حال کی تصحیح ہے۔ یہ ڈی کنڈیشنگ ہر انسان کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر انسان کی شخصیت ایک ناقص شخصیت بنی رہے گی، وہ کبھی کامل شخصیت کا درجہ نہ پا سکے گی۔ اس ڈی کنڈیشنگ کا بنیادی ذریعہ احتساب خویش (introspection) ہے۔ ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود اپنا ننگراں بن جائے۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے اندر سے ہر منفی آئٹم کو نکالے اور اس کو فکری تصحیح کے عمل سے گزار کر مثبت آئٹم بنائے۔ اور پھر اسی مثبت آئٹم کو اپنی شخصیت میں واپس داخل کرے۔ جس طرح مویشی جگالی کر کے اپنے اندر سے غیر ہضم شدہ غذا کو نکالتے ہیں اور پھر اس کو قابل ہضم بنا کر اپنے پیٹ میں دوبارہ داخل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ ڈی کنڈیشنگ کے ذریعے اپنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کریں۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے دماغ کے دو بڑے حصے ہیں۔ شعور اور لاشعور۔ انسان کے ساتھ جب کوئی ناخوشگوار تجربہ گزرتا ہے تو وہ سب سے پہلے اس کے ذہن کے شعوری خانے میں ایک منفی آئٹم کے طور پر داخل ہوتا ہے۔ یہ منفی آئٹم چند دن تک زندہ شعور کے خانے میں رہتا ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ اس کے لاشعور کے خانے میں چلا جاتا ہے۔ اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن کا حصہ بن جاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی پہلے ہی دن یا چند دن کے اندر ہر منفی آئٹم کو مثبت آئٹم میں تبدیل کرے ۔ تا کہ یہ آئٹم جب زندہ شعور سے گزر کر اس کے لاشعور میں یا حافظے کے اسٹور میں پہنچے تو وہ ایک مثبت آئٹم کے طور پر وہاں محفوظ ہو۔ یہی وہ عمل ہے جو انسانی شخصیت کی تعمیر میں اصل فیصلہ کن عامل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی عمل کے دوران یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کوئی انسان منفی شخصیت کا حامل ہو یا مثبت شخصیت کا حامل۔ جو آدمی اپنے روز مرہ کے تجربات پر تصحیح کا عمل کر کے اس کو مثبت آئٹم میں ڈھالتا رہے، اس کے لاشعور یا حافظے کے اسٹور میں تمام آئٹم مثبت آئٹم کے طور پر جمع ہوں گے۔ ایسے انسان کی شخصیت ایک مثبت شخصیت ہوگی۔ اس کے برعکس جو انسان تجربے کے پہلے ہی مرحلے میں تصحیح کا یہ عمل جاری نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader