شخصیت کی تعمیر
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
شخصیت کی تعمیر تجربہ بتاتا ہے کہ انسان بچپن میں معصوم مٹی کی مانند ہوتا ہے۔ لیکن بڑا ہونے کے بعد اس کی شخصیت میں طرح طرح کے بگاڑ آجاتے ہیں۔ مثلاً ضد اور سرکشی وغیرہ۔ شخصیت کی تعمیر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنی پیدائشی فطرت کو اُسی حالت میں محفوظ رکھے، جس حالت میں وہ ماں کے پیٹ سے نکلا تھا۔ یا وہ مویشیوں کی طرح جگالی کا طریقہ اختیار کرے۔ یعنی بعد کو اس کی شخصیت پر جو مصنوعی پردے پڑ گئے تھے، اُن کو ایک ایک کر کے ہٹانا، یہاں تک کہ اصل فطرت آمیز شوں سے پاک ہو کر سامنے آجاۓ۔ اس معاملے میں فطرت کی ایک مثال وہ ہے جس کا تعلق لوہے سے ہے۔ لوہا ابتدائی طور پر ایک خالص دھات ہوتا ہے۔ مگر پانی کے زیر اثر آنے سے اس میں زنگ لگ جاتا ہے۔ یہ زنگ لوہے کے لیے صرف ایک اوپری چیز ہوتا ہے۔ اگر رگڑ کر زنگ کو مٹا دیا جائے تو لوہا دوبارہ اپنی خالص صورت میں سامنے آجاۓ گا۔ تمثیل کی زبان میں ایک نفسیاتی معاملہ کو بتایا گیا ہے۔ جب کوئی انسان برائی کرے اور پھر وہ جلد ہی متنبہ ہوجائے۔ وہ برائی کے احساس کو اپنے دل سے نکال ڈالے تو اس کا دل پاک وصاف ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ آدمی ایک کے بعد ایک برائی کرتا رہے۔ وہ اپنا محاسبہ کر کے اپنے دل سے اس کے اثر کو زائل نہ کرے تو دھیرے دھیرے اس کا پورا دل بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اب وہ برائیوں ہی میں جینے لگتا ہے اور سچائی کی بات اس کو متاثر نہیں کرتی۔ جدید نفسیاتی مطالعے نے اس معاملے کو مزید واضح کیا ہے۔ اب یہ بات ایک پراسرار عقیدہ نہیں رہی، بلکہ وہ ایک معلوم حقیقت بن گئی ہے۔ اب وہ خالص علمی اعتبار سے انسان کے لیے قابل فہم ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین بڑے حصے ہیں۔ یہ تینوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader