Urdu book · انسان کی منزل

جنت کا استحقاق

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

آغازِ کلام انسانی وجود ایک مکمل وجود ہے۔ تاہم اس کے دو حصے ہیں — مادی وجود اور روحانی وجود۔ مادی وجود سے مراد انسان کا ظاہری جسم ہے، اور روحانی وجود سے مراد اس کی داخلی شخصیت۔ دونوں ہی حصے اپنی جگہ پر اہم ہیں، مگر دونوں کی حیثیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ موجودہ زمانے میں جو تمدنی ترقیاں ہوئی ہیں اس نے انسان کے مادی حصے کے لیے بہت زیادہ سامان فراہم کیا ہے۔ اس کے بعد انسان کی خارجی شخصیت کے ڈویلپمنٹ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ خارجی شخصیت کی خوشنمائی، اس کی صحت مندی، اور اس کی راحتوں اور آسائشوں میں اتنی زیادہ ترقی ہوئی ہے جو اس سے پہلے تاریخ کے کسی دور میں نہیں ہوئی تھی۔ مگر جہاں تک انسان کی داخلی شخصیت کی بات ہے اس میں برعکس طور پر، کوئی قابلِ لحاظ ترقی نہ ہوسکی۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کی داخلی شخصیت ایک قسم کے فاقہ (starvation) میں مبتلا ہے۔ ظاہری طور پر خوشنما جسموں کے اندر ایک غیر صحت مند روح چھپی ہوتی ہے۔ انسانی شخصیت کے اس تضاد کو سمجھنا اور اس کا حل دریافت کرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ انسان کی حیثیت جنگل کے اس جانور کی ہو جائے گی جو ہرا ہرا چارہ کھا کر جسمانی طور پر فربہ ہو گیا ہو لیکن اندر سے وہ ایک حیوانی وجود کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ انسان کو اس بحران سے بچانا فوری طور پر ضروری ہے۔ اس بحران کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ انسان کی جسمانی فیکلٹی تو خوب کام کر رہی ہے مگر اس کی دماغی فیکلٹی تقریباً معطل پڑی ہوئی ہے۔ انسان اپنے جسم کے نظامِ ہضم میں خوراک ڈالتا ہے اور اس کے ہضم کا نظام سرگرم ہو کر اس کو کامیابی کے ساتھ گوشت اور خون میں کنورٹ کرتا ہے۔ اسی طرح انسان کا دماغ بھی فطرت کا ایک معجزاتی کارخانہ ہے۔ دماغ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ خارجی معلومات کا تجزیہ کر کے ان سے اعلیٰ نظامِ افکار بنائے ۔ وہ حکمت کے اعلیٰ مرتبے کو حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page