Urdu book · انسان کی منزل

جیسا بونا ویسا کاٹنا

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تخلیقی نقشے سے باخبر کرنے کے لیے خالق نے بہت سے انتظامات اس دنیا میں کئے ہیں۔ مثلاً موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں کوئی آرام کی زندگی نہ پاسکے۔ یہاں مسائل ہیں، یہاں بیماری ہے، یہاں حادثات ہیں، یہاں بورڈم ہے، یہاں طرح طرح کے نقصانات ہیں اور پھر تھوڑی مدت کے بعد اچانک مرجانا۔ اس طرح دنیا کے ناموافق حالات بار بار آدمی کو یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ تم اپنی مطلوب دنیا یہاں نہیں بنا سکتے۔ یہ دنیا تمہاری تمناؤں کی تکمیل کے لیے فیصلہ کن طور پر ناکافی ہے۔ یہ ناموافق صورت حال آدمی کو مسلسل حقیقت کی تلاش پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں بہت سے لوگ مصیبت (suffering) میں مبتلا ہو کر لوگوں کے لیے نمونۂ عبرت بن جاتے ہیں۔ ایک شخص مفلوج ہو کر وہیل چیئر پر جی رہا ہے، یا کسی لاعلاج بیماری میں مبتلا ہو کر زندگی کی کشش کھو دیتا ہے۔ اس طرح کے مختلف لوگ گویا خالق کی طرف سے نشان منزل (signpost) کا کام کر رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا کی زندگی کتنی بے حقیقت ہے۔ ایسے لوگ گویا خاموش زبان میں بتا رہے ہیں کہ انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ خود سے اپنی مرضی کی دنیا اپنے لیے بنا سکے۔ حالات کے کورس میں جن لوگوں کو اس طرح سائنس پوسٹ کا رول ادا کرنے کا موقع ملے وہ لوگ اگرچہ بظاہر مصیبت میں دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے لیے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے۔ موت کے بعد آنے والے فیصلے کے دن ان سے چھوٹے عمل کو قبول کر لیا جائے گا۔ اپنی مصیبت کی بنا پر وہ جسمانی اعتبار سے اس قابل نہیں تھے کہ وہ کوئی بڑا عمل کر سکیں۔ اس بنا پر ان کے لیے صرف یہی کافی ہو جائے گا کہ وہ اپنے اس رول پر راضی ہو جائیں جو سائنس پوسٹ کی حیثیت سے ان کے لیے مقدر ہوا تھا۔ وہ جس مصیبت میں مبتلا ہوئے ہیں اس پر صبر کر لیں۔ صبر اور رضا مندی ہی کی بنا پر کسی مزید عمل کے بغیر ان کو جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ اس حقیقت کا علم انسان کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں۔ مختلف ذرائع سے یہ بات انسان کے علم میں آچکی ہے کہ وہ موت سے پہلے کے دور حیات میں اپنی پسند کی دنیا نہیں بنا سکتا۔ یہاں جو کوئی اچھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page