Urdu book · انسان کی منزل

جیسا بونا ویسا کاٹنا

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

عمل کرے گا وہ بعد از موت دُورحیات میں اپنی پسند کی دنیا پا سکے گا۔ جنت اگلی دنیا میں بنے گی مگر جنتی انسان آج ہی کی دُنیا میں بن رہا ہے۔ جنت کیا ہے۔ موجودہ دنیا کو دیکھ کر جنت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا ایک اعتبار سے گویا جنت کا تعارف ہے۔ یہ جنت کا ایک بہت چھوٹا نمونہ ہے۔ جنت دراصل موجودہ دنیا کا تکمیلی ایڈیشن ہے۔ موجودہ دنیا میں جو نعمتیں ہیں وہی تمام نعمتیں جنت میں بھی ہیں، فرق یہ ہے کہ موجودہ دنیا ناقص ہے اور جنت اس کے مقابلے میں کامل۔ موجودہ دنیا غیر معیاری ہے اور جنت کی دنیا معیاری۔ موجودہ دنیا فانی ہے اور جنت کی دنیا ابدی۔ موجودہ دنیا میں خوف اور حُزن ہے، یہاں شور اور تکلیف ہے جب کہ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ خوف ہوگا اور نہ حزن، جہاں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف۔ موجودہ دنیا محدودیت اور ڈس ایڈوانٹیج سے بھری ہوگی۔ جب کہ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ محدودیت ہوگی اور نہ کسی قِسم کا ڈس ایڈوانٹیج ۔ جنت میں انسان کو فل فلمنٹ (fulfilment) حاصل ہوگا جب کہ موجودہ دنیا میں کسی کو بھی فل فلمنٹ حاصل نہیں ہوتا۔ جہنم وہ جگہ ہے جو اس کے بالکل بَرعکس ہوگی۔ جہنم کی دنیا میں وہ تمام تکلیفیں مزید اضافے کے ساتھ جمع کر دی جائیں گی جن کا تجربہ ہم موجودہ دنیا میں کرتے ہیں۔ موت سے پہلے کا دَور اور موت کے بعد کا دور، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کے درمیان وہی نسبت ہے جو بونے اور فصل کاٹنے میں ہوتی ہے۔ موت سے پہلے کا زمانہ گویا بونے کا زمانہ ہے، اور موت کے بعد کا زمانہ گویا فصل کاٹنے کا زمانہ۔ جیسا بونا ویسا کاٹنا، یہ ایک ابدی اُصول ہے۔ یہ اُصول بعد از موت دَورِ حیات پر بھی منطبق ہوتا ہے جتنا کہ قبل از موت دَورِ حیات پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page