انسان اور حیوان
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ حیوانات کا بعض کام جو بظاہر کل پر مبنی معلوم ہوتا ہے مثلاً چیونٹی کا آئندہ موسم کے لیے خوراک جمع کرنا، وہ بھی جبلت کے تقاضے کے تحت ہوتا ہے نہ کہ کل یا مستقبل کے شعور کے تحت۔ انسان کی اس منفرد صفت کو لے کر جب غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا فل فل منٹ کے درجے کو پانے کا جذبہ کل کی نسبت سے ہے۔ یعنی وہ کل حاصل ہونے والا ہے۔ آج کا حیاتیاتی اسپین (span) بہت مختصر ہے، اس لیے اس کے حصول کو فطرت نے اس کو کل کے دور حیات میں رکھ دیا ہے۔ اس لحاظ سے انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں، ایک قبل از موت مرحلہ حیات اور دوسرا بعد ازموت مرحلہ حیات۔ قبل از موت مرحلہ حیات عارضی ہے اور بعد از موت مرحلہ حیات ابدی۔ یہ تقسیم اس لیے ہے کہ انسان جو کچھ آج نہ پا سکا اس کو وہ کل کے مرحلہ حیات میں پا سکے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، انسانی دماغ (brain) کے اندر ایک سوبلین، بلین بلین پارٹکل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انسانی ذہن لامحدود پوٹینشیل رکھتا ہے۔ یہ پوٹینشیل اتنا زیادہ ہے کہ انسان کی طبعی عمر جو لک بگ سو سال ہے، وہ اس پوٹینشیل کو کام میں لانے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔ حتیٰ کہ اگر انسان کی عمر اس سے بہت زیادہ ہو تب بھی زمین کے حالات اتنے محدود ہیں کہ اس محدود زمین پر انسان اپنے لامحدود ذہن کا استعمال نہیں پا سکتا۔ انسانی ذہن کے لامحدود امکان کے مقابلے میں انسان کی عمر بھی ناکافی ہے اور موجودہ زمینی قیام گاہ کی عمر بھی ناکافی۔ اس حقیقت پر غور کیا جائے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ انسان کو اپنے مکمل فل فل منٹ کے لیے ایک اور طویل تر عمر اور ایک اور زیادہ بڑی دنیا درکار ہے۔ موجودہ حالت میں انسانی ذہن کے امکانات ہمیشہ غیر استعمال شدہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھ کر زندگی کی توجیہہ کی جائے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ انسان کی زندگی آئس برگ کی مانند ہے۔ اس آئس برگ کا بہت چھوٹا حصہ قبل از موت مرحلہ حیات میں نظر آتا ہے اور اس کا زیادہ بڑا حصہ بعد از موت مرحلہ حیات میں چھپا ہوا ہے۔ یہ مانے بغیر انسانی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader