انسان اور حیوان
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کی توجیہہ نہیں ہوتی اور جب کوئی تصور کسی مشاہدے کی توجیہہ کے لیے ایک ہی امکانی تصور بن جائے تو یہ اس بات کا علمی ثبوت ہوتا ہے کہ وہ تصور عین حقیقت ہے۔ یہی اس معاملے میں درست علمی موقف ہے۔ مذکورہ حقیقتوں کو سامنے رکھ کر انسانی زندگی کی توجیہہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کی صرف عارضی قیام گاہ ہے۔ وہ اس کی ابدی منزل نہیں۔ ہر انسان لازمی طور پر موت سے دوچار ہوتا ہے۔ یہ موت کیا ہے، موت دراصل ایک درمیانی پل ہے۔ موت عارضی زندگی سے ابدی زندگی کی طرف منتقل ہونا ہے۔ موجودہ دنیا وہ دنیا ہے جہاں آدمی گویا اپنی تربیت کرتا ہے۔ موت سے پہلے کا مرحلۂ حیات گویا ایک ٹریننگ پیریڈ ہے۔ یہاں وقتی قیام کے دوران اپنے آپ کو تربیت یافتہ بنا کر اگلی مستقل دنیا میں جانا ہے، جہاں یہ موقع ملے گا کہ آدمی اپنے ذہن کے تمام امکانات کو استعمال کرے اور مکمل فل فل مینٹ کی خوشی حاصل کر سکے۔ تاہم دوسرے مرحلۂ حیات میں اُنھیں لوگوں کو جگہ ملے گی جنھوں نے پہلے مرحلۂ حیات میں اپنی باقاعدہ تربیت کی ہوگی۔ جو لوگ غیر تربیت یافتہ حالت میں وہاں پہنچیں گے وہ وہاں کے مواقع استعمال کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔ وہ قبل از موت دو رحیات میں بھی محروم رہیں گے اور وہ بعد ازموت مرحلۂ حیات میں بھی فل فل مینٹ سے مکمل طور پر محروم رہیں گے۔ یہ محرومی بلاشبہ ان کے لیے ایک ایسی سزا ہوگی جس سے زیادہ سخت سزا کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انسان اگر صرف اپنے آج میں جئے اور اپنے آج میں مَر جائے تو وہ گویا حیوان کی زندگی جیا اور حیوان کی زندگی مرگیا۔ حقیقی انسان وہ ہے جو اپنے آج سے گذر کر اپنے کل تک پہنچ جائے۔ جو اپنی محدود دنیوی عمر کو ختم کر کے اس طرح مرے کہ اس میں اپنے کل کی تعمیر کر لی ہو، وہی حقیقت میں انسان ہے اور وہی اس قابل ہے کہ اس کو کامیاب انسان کا ٹائٹل دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader