انسان کی منزل
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی منزل ڈاکٹر الیکس کیرل (Alexis Carrel) ۱۸۷۳ میں فرانس میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ سائنسی تعلیم کے بعد انھوں نے اپنے کیرئیر کا بیشتر حصہ امریکا میں گزارا۔ ۱۹۱۲ میں ان کو میڈیسن کا نوبل پرائز ملا۔ ۱۹۴۴ میں ان کا انتقال ہوا اور فرانس میں ان کے وطن میں ان کی تدفین ہوئی۔ ڈاکٹر الیکس کیرل کی ایک کتاب ۱۹۳۵ میں انسان نامعلوم (Man The Unknown) کے نام سے چھپی۔ یہ کتاب بہت مقبول ہوئی۔ مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے شائع ہوئے۔ اس کتاب کے بارے میں اس کے ایک تبصرہ نگار نے درست طور پر لکھا ہے کہ: یہ کتاب خالص سائنسی اعتبار سے انسان اور اس کی زندگی کے بارے میں مصنف کے تجربات کا خلاصہ پیش کرتی ہے: This book sums up much of his experience of man and his life seen from the purely scientific aspect. ۳۱۲ صفحے کی اس کتاب میں ڈاکٹر الیکس کیرل انسانی زندگی کی حقیقت معلوم کرنے میں ناکام رہے۔ چنانچہ اپنی اس کتاب کا ٹائٹل انھوں نے ان الفاظ میں مقرر کیا— انسان نامعلوم (Man The Unknown) اس کتاب کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جہاں تک انسان بحیثیت ایک سائنسی وجود کا معاملہ ہے اس کو ڈاکٹر الیکس کیرل بڑی حد تک دریافت کر چکے تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے اپنی کتاب کا نام انسان نامعلوم کیوں رکھا۔ ایسا ایک کنفیوژن کی بنا پر ہوا۔ الیکس کیرل نے ’’انسان‘‘ کو تو معلوم کر لیا تھا مگر ان کا مطالعہ ان کو یہ نہ بتا سکا کہ اس انسان کی منزل کیا ہے۔ ان کو محسوس ہوا کہ ایک معلوم انسان ایک غیر معلوم منزل کی طرف جا رہا ہے۔ اور یہی ان کی عدم معرفت کا اصل سبب ہے۔ اس اعتبار سے کتاب کا زیادہ صحیح ٹائٹل یہ ہوگا— نامعلوم منزل (Goal The Unknown) یہ صرف ڈاکٹر الیکس کیرل کا مسئلہ نہیں۔ یہی تمام فلاسفہ اور مفکرین کا مسئلہ ہے۔ انسان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader