خدا اور انسان
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
اس لیے ان کی ہر پکار کا جواب یہ آ رہا ہے کہ یہ خدا موجود نہیں (This god does not exist)۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہر آدمی اس پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لے۔ اگر وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہوگا تو یقینی طور پر وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اس کو سسٹم آف تھاٹ کو دریافت کرنا ہے جس میں خدا کا تصور اپنی خالص صورت میں آدمی کو مل جائے۔ یہ ہر عورت اور مرد کا مسئلہ ہے۔ ہر عورت اور مرد اعتقادی طور پر کسی نہ کسی خدا کو اپنا خدا بنائے ہوئے ہے۔ مگر خدا کو ماننے کے جو نتائج ہیں وہ اس کو حاصل نہیں ۔ ہر انسان اپنے ذاتی تجربے کے تحت یہ محسوس کر سکتا ہے کہ اس کے لیے خدا پر عقیدہ نہ رکھنے (lack of belief in God) کا نہیں ہے بلکہ عقیدہ خدا کا نتیجہ نہ ملنے (lack of result of belief in God) کا مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسی یونیورسل حقیقت ہے جس کو ہر آدمی اپنے ذاتی تجربے کے تحت جان سکتا ہے۔ عقیدہ اور نتیجہ عقیدہ کے درمیان اس فرق کا ممکن سبب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اس نے خدا کے نام پر کسی غیر خدا پر اپنا عقیدہ بنا رکھا ہو۔ ایسی حالت میں فطری طور پر یہ ہوگا کہ عقیدے کے با وجود آدمی کو عقیدے کا نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔ بہت سے اسکالرس نے اس مسئلے پر ریسرچ کی ہے اور اس کا جواب معلوم کیا ہے۔ ان ہی میں سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بنگالی ڈاکٹر منشی کانت چھو پاڈھیاے ہیں۔ انھوں نے ۱۹۰۲ میں حیدر آباد دکن میں ایک مطبوعہ لکچر میں اپنا در یافت کردہ جواب بتایا تھا۔ وہ یہ کہ '' اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ساتویں صدی عیسوی سے پہلے جو مذاہب دنیا میں آئے وہ اگر چہ اعتقادی طور پر ایک ہی خدا کو ماننے والے تھے مگر بعد کے زمانے میں ان کا اور یجنل ٹیکسٹ محفوظ نہ رہ سکا۔ ہر مذہب کے ساتھ یہ ہوا کہ اس میں خدا کا تصور تبدیلی کا شکار ہو گیا اور خدا کے معاملے میں ان مذاہب کی اوریجنل تعلیم محفوظ نہ رہ سکی۔ ساتویں صدی کے رُبع اول میں اسلام کا ظہور ہوا۔ اسلام بھی اگر چہ دوسرے مذاہب کی طرح ایک مذہب تھا لیکن اسلام کی امتیازی صفت یہ ہے کہ اس کا اور یجنل ٹیکسٹ پوری طرح محفوظ رہا۔ اس لیے اب بعد کی جنریشن کے لیے خدا کے درست عقیدے کو جاننے کا معتبر ماخذ صرف اسلام رہ گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader