انسان کا المیہ
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا نے موجودہ دنیا کو ایک ایسے نقشے کے مطابق بنایا ہے کہ یہاں ہر انسان ”مشقت“ میں رہے۔ دوسری طرف یہ ایک حقیقت ہے کہ موت کے بعد آنے والی دوسری دنیا غم سے پاک ہوگی جو صرف خدا کے پسندیدہ لوگوں کو ملے گی۔ زندگی کے بارے میں یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مذکورہ قسم کے تمام مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس تخلیقی تقسیم کی روشنی میں دیکھیے تو تمام انسانی مسائل کی جڑ یہ ہے کہ لوگ موت سے پہلے کی دنیا میں اپنی جنت بنانا چاہتے ہیں جب کہ یہاں فطرت کے نظام کے تحت، وہ حالات ہی موجود نہیں کہ کوئی شخص یہاں اپنی جنت بنا سکے۔ جس طرح ریت یا دلدل کے اوپر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی ہے اسی طرح موجودہ دنیا میں کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں اپنا عیش محل تعمیر کر سکے۔ اور جب فطری قانون کے تحت، آدمی اس ناکامی سے دوچار ہوتا ہے تو وہ مختلف قسم کے منفی ردِّ عمل کا شکار ہو کر اپنے کو مزید تباہی میں ڈال لیتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی اس تخلیقی قانون کا اعتراف کرے اور اس کے مطابق، وہ اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے ۔ یہ منصوبہ صرف ایک ہے ۔ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو وہ مطلوب انسان بنانا جو موت کے بعد کی دنیا میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔ فطرت کے تخلیقی نقشے کے مطابق، موت سے پہلے کی دنیا میں انسان کے لیے قناعت ہے، اور موت کے بعد کی دنیا میں انسان کے لیے جنت۔ دور قناعت میں جنت نہیں، اور دورِ جنت میں قناعت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader