انسان کا المیہ
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تدبیر ہے مگر وہ بھی ’’مشقت‘‘ کی صورت حال کا صحیح اور مطلوب رد عمل نہیں۔ سوشل سروس ایک انسانی خدمت ہے اور اس اعتبار سے وہ بلاشبہ ایک قابل تعریف عمل ہے۔ مگر زندگی کے بارے میں فطرت کے تخلیقی نقشے کی اہم تر نسبت سے دیکھا جائے تو اس کے اندر ایک غیر مطلوب پہلو چھپا ہوا ہے۔ غور کیجیے کہ جو شخص کسی مصیبت کا تجربہ کرتا ہے اور پھر وہ سوشل سروس میں مشغول ہو جاتا ہے، اس کی نفسیات کیا ہوتی ہے۔ اس کی نفسیات ایک جملے میں یہ ہوتی ہے کہ ـــ جو کچھ میں نے بھگتا وہ دوسروں کو نہ بھگتناپڑے: Let no other suffer what I have suffered. یہ نفسیات بتاتی ہے کہ آدمی سارے معاملے کو بس دنیا کا معاملہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک مصیبت صرف دنیا کی مصیبت ہے اور سب سے بڑا کام یہ ہے کہ دنیا کو بے مصیبت جگہ بنایا جائے ۔ حالاں کہ یہ سوچ فطرت کے تخلیقی نقشے کے خلاف ہے، اس لیے وہ یہاں واقعہ بننے والی ہی نہیں۔ جب بھی دنیا میں کسی کو کوئی ناخوشگوار تجربہ ہو تو وہ اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی اس سے صحیح سبق لے ۔ وہ اس حقیقت کو یاد کرے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کو بھی آرام کی زندگی ملنے والی نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کے منفی تجربات سے سبق لے۔ وہ اپنے اندر اس شعور کو جگائے کہ اس محدود دنیا میں مجھے اپنی مطلوب زندگی ملنے والی نہیں۔ مجھے اپنی مطلوب زندگی اگلے دورِ حیات کی لامحدود دنیا میں تلاش کرنی چاہیے۔ ایسی حالت میں ناخوشگوار تجربات کا صحیح سبق یہ ہے کہ آدمی اگلی دنیا کی جنت کو یاد کرے، وہ اپنے اندر اس سوچ کو بیدار کرے کہ ـــ جو کچھ میں نے آج کی عارضی دنیا میں بھگتا وہ مجھے کل کی ابدی دنیا میں نہ بھگتنا پڑے : Let me not suffer in the Hereafter that which I have suffered in this world. کامیاب وہ ہے جس نے عارضی دنیا میں ابدی دنیا کو پہچانا۔ جس نے موجودہ دنیا کی ناکامی میں اگلے دورِ حیات کی ابدی کامیابی کا راز دریافت کر لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader