Urdu book · انسان کی منزل

انسان کی منزل

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

یقینی طور پر یہ خواہشیں اور تمنائیں بھی سوچی سمجھی تخلیق ہیں۔ ان کی پیدائش کا ایک واضح مقصد ہے۔ البتہ یہ مقصد موجودہ دنیا میں پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ خواہشیں اور تمنائیں لامحود ہیں اور وہ ایک لامحود دنیا ہی میں پوری ہو سکتی ہیں۔ اسی لامحود دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت کی اس لامحود دنیا میں اچھے لوگوں کو ابدی جنت ملے گی جو ہر قسم کی خوشیوں اور راحتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ اس کے برعکس جو لوگ موجودہ دنیا میں برے ثابت ہوں ان کو آخرت کی دنیا میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ مجبور ہوں گے کہ وہ اپنی برائیوں کی سزا ابدی طور پر بھگتے رہیں۔ جنت کی حقیقت جنت کیا ہے۔ جنت انسان کی تلاش کا جواب ہے۔ انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں وہ ایک انوکھے استثناء کی حیثیت رکھتا ہے۔ وسیع کائنات کا ہر جزء اپنے آپ میں مکمل ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو اپنے آپ میں مکمل نہیں۔ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect) کائنات ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو استثنائی طور پر ناقص وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ کائنات میں ہر طرف یقین (certainty) ہے اور انسان کی دنیا میں غیر یقینیت (uncertainty)۔ بقیہ کائنات میں کہیں خوف (fear) دکھائی نہیں دیتا مگر انسان ہمیشہ خوف اور اندیشے سے دوچار رہتا ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر طرف تسکین (satisfaction) کی حالت ہے اور انسان کی زندگی میں بے تسکین (dissatisfaction) کی حالت ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر چیز کا حال یہ ہے کہ جو کچھ اس کو چاہئے وہ سب اس کو مل رہا ہے مگر انسان اس دنیا کی واحد مخلوق ہے جو اسی احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ جو کچھ اس نے چاہا وہ اس کو نہیں ملا۔ بقیہ کائنات ایک برائی سے پاک (evil-free) کائنات ہے۔ مگر انسان استثنائی طور پر اس مسئلے سے دوچار ہے جس کو برائی کا مسئلہ (problem of evil) کہا جاتا ہے۔ جنت اسی سوال کا جواب ہے۔ جنت کا تصور بتاتا ہے کہ انسان کے لیے بھی وہ سب کچھ پوری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page