Urdu book · انسان کی منزل

انسان کی منزل

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح موجود ہے جو بقیہ کائنات کو ملا ہوا ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات کو اپنا مطلوب آج میں مل رہا ہے، جب کہ انسان کو اس کا مطلوب کل میں ملے گا۔ دونوں کے معاملات کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہے کہ بقیہ کائنات کے پاس کل (tomorrow) کا تصور نہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو استثنائی طور پر کل کے تصور میں جیتا ہے۔ فطرت کا حصہ خدا اور آخرت کا معاملہ بظاہر غیر مشہود دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فطرت انسانی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انسان کی فطرت خدا اور آخرت کے معاملے کو ایک معلوم صداقت کے طور پر جان لیتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا کی معرفت کے دو درجے ہیں۔ ایک عقلی اور دوسرا فطری۔ خدا اور آخرت کے وجود کو عقلی سطح پر ماننا اس معرفت کا صرف ابتدائی درجہ ہے جب کہ خدا اور آخرت کے وجود پر فطری سطح پر یقین کرنا اس کا انتہائی درجہ۔ خدا اور آخرت کے معاملے میں عقلی دلائل کے استعمال کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اوپر سے شک کے پردے کو ہٹا دیا جائے ۔ انسان کو اس مقام تک لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے معاملے کو کم از کم امکانی صداقت کے طور پر قبول کرلے۔ خدا اور آخرت کے معاملے میں دلیل اور منطق کے استعمال کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو اس فکری سطح پر لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے وجود کو بطور ایک نظریہ ماننے کے لیے تیار ہو جائے ۔ جب آدمی اس حالت تک پہنچ جائے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس نظریے کو ماننے کے لیے اس کی فطرت کے دروازے کھل جائیں۔ وہ اس کو ایک فطری سچائی کے طور پر پہچان کر اپنا لے۔ ہر انسان کے پاس وہ آنکھ موجود ہے جو خدا اور آخرت کو دیکھ سکے مگر اس آنکھ کے اوپر کنڈیشنگ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ منطقی دلیل یہ کام کرتی ہے کہ وہ اس کنڈیشنگ یا اس ذہنی رکاوٹ (mental block) کو توڑ کر اس مصنوعی پردے کو فطرت کی آنکھ سے ہٹا دے۔ اس کے بعد انسان خدا اور آخرت کو صاف دیکھنے لگتا ہے۔ اب انسان بظاہر نہ دکھائی دینے والے خدا کے وجود پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page