Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

دورِ جدید میں انسان کے مسائل

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ وہ ہے جس کا تعلق انسانی معاملات میں اسلام کے بنیادی نقطہء نظر سے ہے۔ دوسرے حصہ کا تعلق اس بنیادی قانونی ڈھانچہ سے ہے جو اسلامی شریعت انسان کے مسائل کے حل کے لئے پیش کرتی ہے۔ یہاں میں اپنی گفتگو کو موضوع کے پہلے حصہ تک محدود رکھوں گا۔ قرآن میں ہے کہ حق اگر ان کی خواہشوں کی پیروی کرتا تو آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب میں فساد ہوجاتا (المومنون ۷۱) تخلیق کے بارہ میں خدا کا منصوبہ ایک کامل منصوبہ ہے۔ انسان کے سوا بقیہ کا ئنات ٹھیک ٹھیک اسی خدائی منصوبہ پر چل رہی ہے۔ اس لئے بقیہ کا ئنات نہایت درست ہے، اس میں کہیں کوئی خرابی نہیں (الملک ۳)، مگر انسان اپنے عمل کے لئے آزاد ہے۔ وہ حق کو چھوڑ کر اپنی خواہش پر چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی دنیا میں فساد برپا رہتا ہے۔ انسان کا بگاڑ دراصل انسان کی آزادی کی قیمت ہے۔ انسان کے مسائل کا حل اسلام کے نزدیک وہی ہے جو بقیہ کا ئنات کے مسائل کا حل ہے۔ انسان اپنی خواہش پر چلنے کے بجائے اسی حق پر چلے جس پر کا ئنات کی بقیہ تمام چیزیں چل رہی ہیں۔ ایسا کرتے ہی انسانی سماج میں وہی اصلاح اور ہم آہنگی پیدا ہو جائے گی جو بقیہ کا ئنات میں بروقت موجود ہے۔ حق پر چلنا کیا ہے اور خواہش پر چلنا کیا ۔ اس کی ایک مثال لیجئے جو قرآن میں ہے : سورج کے لئے ممکن نہیں کہ وہ چاند سے ٹکرا جائے اور نہ رات ایسا کر سکتی ہے کہ وہ دن سے آگے بڑھ جائے۔ ہر ایک اپنے مدار میں گردش کرتا ہے (یسین ۴۰) خدا کے منصوبہ کے مطابق خدا کا قانون ہے کہ ہر ایک اپنے اپنے مدار میں چلے۔ اسی کے مطابق تمام فلکیاتی اجرام حرکت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے درمیان آپس میں ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس حق کا اطلاق انسان پر اس طرح ہوگا کہ آدمی اپنے اپنے دائرہ میں عمل کرے۔ اگر ہر آدمی ایسا کرے تو پورے سماج کا نظام درست رہے گا۔ اس کے برعکس اگر ہر آدمی اپنی خواہش پر چلنے لگے تو لوگوں میں فکر او ہو گا اور سوسائٹی میں اور بین اقوامی زندگی میں فساد برپا ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ جب بیرونی سیاسی غلبہ سے آزاد ہوا تو ایک امریکی اپنے گھر سے باہر نکلا وہ سڑک پر آزادانہ طور پر چل رہا تھا۔ دوسرے راہ گیروں کا لحاظ کئے بغیر وہ اپنا ہاتھ زور زور سے ہلا رہا تھا۔ اسی اثنا میں اس کا ہاتھ ایک راہ گیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہ گیر نے بگڑ کر کہا کہ یہ کیا بدتمیزی ہے۔ تم اس طرح اپنا ہاتھ بے ڈھنگے طور پر ہلاتے ہوئے کیوں چل رہے ہو، امریکی نے جواب دیا کہ اب ہمارے ملک نے آزادی حاصل کر لی ہے۔ آج میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page