دورِ جدید میں انسان کے مسائل
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں اور جس طرح چاہوں چلوں ۔ راہ گیر نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ کہا : جناب ، آپ کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔ Your freedom ends where my nose begins قرآن میں ارشاد ہوا ہے : تم ناپ اور تول کو پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ کرو (الاعراف ۸۵) اس آیت کے مطابق خدا کی بنائی ہوئی زمین ایک اصلاح یافتہ زمین ہے۔ یہاں ہر چیز درست طریقہ پر قائم ہے۔ ہر چیز عین وہی کر رہی ہے جو اسے کرنا چاہئے۔ زمین کا یہ نظام انسان کے لئے اپنے معاملات کا معیار اور پیمانہ ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے عمل کو اسی قدرتی پیمانے سے ناپے اور اس سے مطابق کر کے اپنے ہر عمل کو درست کرتا رہے ۔ اگر انسان ایسا کرے گا تو اس کی سوسائٹی امن اور انصاف کی سوسائٹی ہوگی۔ اس کے برعکس اگر وہ زمین میں رکھے ہوئے کے اس پیمانے سے مطابقت نہیں کرے گا تو انسان کا سماج بگڑ جائے گا۔ وہ اصلاح کی دنیا میں فساد کی دنیا بنانے کے ہم معنی ہوگا۔ فطرت سے یہ مطابقت ہی ہماری تمام کامیابیوں کا راز ہے۔ موجودہ زمانہ کی ٹکنیکل ترقیوں کو دیکھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ مگر یہ ٹکنیکل ترقیاں کیا ہیں۔ وہ فطرت سے مطابقت کا دوسرا نام ہیں۔ یہی طریقہ ہم کو انسانی سماج کی اصلاح کے لئے بھی اختیار کرنا ہے۔ مادی ترقیاں فطرت سے مطابقت کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح انسانی سوسائٹی بھی بغیر سے مطابقت ہی کے ذریعہ درست ہوگی۔ خدا کی اس دنیا میں اصلاح و ترقی کا ایک ہی یقینی طریقہ ہے، اور وہ فطرت سے مطابقت ہے۔ مادی دنیا کے لئے بھی اور انسانی دنیا کے لئے بھی۔ ستاروں اور سیاروں کی گردش میں جو نظم ہے وہی نظم کائنات کی تمام چیزوں میں کمال درجہ میں پایا جاتا ہے۔ اس دنیا کے تمام واقعات اتنے منظم طور پر ظہور میں آتے ہیں کہ ان کو پیشگی طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ کائنات کی ناقابل بیان حد تک حیرت انگیز تنظیم اتنی کامل ہے کہ وہ اپنی فطرت میں قابل پیشینگونی بن گئی ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات انتہائی حد تک مکمل ہے۔ اس میں ابدیت ، معنویت اور حسن کمال طور پر پایا جاتا ہے۔ وہ نقص یا کمی سے اتنا زیادہ خالی ہے کہ اس پر اربوں سال گذر گئے اور اس میں کسی نظر ثانی کی ضرورت پیدا نہیں ہوئی۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے اس قانون فطرت کو بہت بڑے پیمانے پر انسانی مقاصد کے لئے استعمال کیا ہے۔ مادی دنیا میں قوانین فطرت کا انطباق کیا گیا تو اس کے حیرت انگیز نتائج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader