اسلام اور عصر حاضر
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
سولھویں صدی عیسوی میں جب یورپ میں سائنسی مطالعہ کا آغاز ہوا تو سائنس دانوں نے اس کو اپنے لئے مفید سمجھا کہ وہ چیزوں کی حقیقت کو اس کی خاصیت سے جدا کر دیں۔ انہوں نے علم کی دو قسمیں قرار دیں: ۱۔ چیزوں کا علم (Knowledge of Things) ۲۔ حقیقتوں کا علم (Knowledge of Truths) انہوں نے اپنے مطالعہ کے دوران محسوس کیا کہ حقیقت کے بارہ میں قطعی علم تک پہنچنا ان کے لئے ممکن نہیں۔ کیوں کہ حقیقت ہمیشہ اتنی لطیف ہوتی ہے جس کو انسانی پیمانوں سے ناپا اور تولا نہیں جا سکتا (الاسرار ۸۵) چنانچہ انھوں نے عملی موقف اختیار کرتے ہوئے حقیقت کو اپنی تحقیق کے دائرہ سے باہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف "کیا" کے سوال کو لیں گے، ہم "کیوں" کے سوال پر غور نہیں کریں گے ۔ اس طرح انھوں نے اپنی تحقیق کو صرف چیزوں کے علم تک محدود رکھا جس کا قطعی علم حاصل کیا جا سکتا تھا۔ یہ طرز فکر تاریخ میں کام کرتا رہا۔ اولاً گلیلیود (۱۶۵۰ - ۱۵۹۶) کے زمانہ میں پھول کی خوشبو کو پھول کی کیمسٹری سے جدا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ڈیکارٹ (۱۶۵۰ - ۱۵۹۶) نے ثنویت (Dualism) کے اس اصول کی توسیع کی اور اس کو انسان کے مطالعہ میں استعمال کیا۔ اس نے روح کو الگ کر کے جسم کا مطالعہ شروع کیا۔ انسان کے روحانی حصہ کو اس کے وجود کے مادی حصہ سے الگ کر دیا گیا۔ مذکورہ ثنویت سے مادی سائنس کے میدان میں بظاہر کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ مقناطیس کے گرد مقناطیسی میدان (Magnetic Field) کی حقیقت کو سمجھے بغیر بھی یہ ممکن تھا کہ عملی طور پر مقناطیس کو بجلی پیدا کرنے اور موٹر چلانے کے لئے استعمال کیا جائے ۔ مگر جب اس ثنویت کو انسان کے اوپر استعمال کیا گیا تو اس کے زبر دست نقصانات ہوئے۔ کیوں کہ بے جان مادہ کی دنیا میں ثنویت چل سکتی ہے۔ مگر انسان ثنویت کو قبول نہیں کرتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی آدمی کا پتھر کا اسٹیچو ہو اور اس کو آپ ایک تاریک کوٹھری میں بند کر دیں تو اسٹیچو کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ مگر انسان ایک نفسیاتی وجود ہے۔ اس لئے اگر نہ زندہ انسان کو اس قسم کی کوٹھری میں بند کیا جائے تو یہ اس آدمی کو ہلاک کرنے کے، ہم معنی بن جاتا ہے۔ اسٹیچو کو آپ آزادی سے محروم کر سکتے ہیں اور وہ کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرے گا۔ لیکن اگر انسان کو اس کی آزادی سے جدا کر دیں تو اس کی پوری شخصیت تہس نہس ہو جائے گی۔ مادہ کو اس کی معنویت سے اور جسم کو اس کی روح سے علیحدہ کرنے کا یہ معاملہ جو مغرب میں پیش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader