Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

اسلام اور عصر حاضر

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

آیا اس نے وہ ذہنی زمین فراہم کردی جس میں خدا اور انسان کی وہ علیحدگی ممکن ہو سکے جو بعد کو مغرب میں پیش آئی۔ مسیحیت اور اسلام کا فرق سائنسی تحقیق کا کام جب مسلم اسپین سے نکل کر اٹلی اور فرانس اور برطانیہ میں پہنچا اور وہاں اس کے لئے کام ہونے لگا تو جلد ہی ایک تیسرا فریق اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا جو اس سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ یہ مسیحی چرچ تھا۔ مسیحیت جب فلسطین اور شام سے نکل کر یورپ میں داخل ہوئی تو اس کا سابقہ ارسطو کے افکار سے پیش آیا۔ چرچ نے اس کا مقابلہ کرنے کے بجائے خود اپنے علم کلام کو ارسطو کے منطقی نظام پر ڈھال لیا۔ حتیٰ کہ چند سو سال گزرنے کے بعد وہ ان کے یہاں مقدس بن گیا۔ بعد کو جب سائنسی تحقیقات نے بتایا کہ ارسطو کے افکار محض قیاسی اور بے بنیاد تھے ، ان کا حقیقت واقع سے کوئی تعلق نہیں ، تو چرچ نے محسوس کیا کہ اگر یہ نظریہ رائج ہوا تو اس کا عقائد کا نظام مشتبہ ہو جائے گا۔ اس نے اپنی غلطی کو ماننے کے بجائے طاقت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس زمانہ میں مسیحی چرچ کو یورپ میں زبردست اقتدار حاصل تھا۔ چنانچہ اس نے بزور جبر سائننس کو دبانا شروع کیا۔ تاہم بھیانک مظالم کے باوجود چرچ کو اس میں کامیابی نہ ہوسکی۔ پندرہویں صدی عیسوی سے پہلے کے زمانہ میں سائنس کا ارتقا مسلم دنیا میں ہوا۔ اس وقت اسپین اور دوسرے مسلم علاقے سائنسی تحقیقات کا مرکز تھے۔ اس زمانہ میں سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی ٹکراؤ پیش نہیں آیا۔ کیوں کہ سچے مذہب اور سچے علم میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ جس خدا نے دین کی وحی کی ہے، اسی نے اس کائنات کو بنایا ہے جس کی تحقیق سائنس کرتی ہے۔ پھر وحی اور علم میں ٹکراؤ کیوں کر ہو سکتا ہے۔ مگر بعد کے مرحلہ میں سائنس کا ارتقا ر یورپ میں ہوا۔ یہاں مذہب کی نمائندگی کرنے کے لئے مسیحیت تھی جو تحریفات اور الہاقات کی بنا پر اپنی اصل ابتدائی شکل کھو چکی تھی۔ اسلام اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ نہ ہونا اور مسیحیت اور سائنس کے درمیان زبردست ٹکراؤ ہو جانا، دونوں دینوں کے درمیان اسی فرق کا براہ راست نتیجہ ہے۔ اس معاملہ میں اسلام اور عیسایت کے فرق کو سمجھنے کے لئے ایک تقابلی مثال لیجئے ۔ زمین اور سورج کی گردش کے بارہ میں قدیم یونان میں دو نظریے پیش کئے گئے تھے۔ ایک ارسطو کا نظریہ، جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین قائم ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ دوسرا ارشارکس کا نظریہ، جس کے مطابق زمین سورج کے گرد گھوم رہی تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page