خدا کا بگڑا ہوا تصور
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کوئی نیا دین نہیں ہے۔ اصلاّ اور ابتدا ً دوسرے مذاہب اور اسلام ایک ہی تھے۔ مگر دوسرے مذاہب میں تبدیلیوں کی وجہ سے صحیح تصور خدا محفوظ نہ رہ سکا۔ جب کہ اسلام میں خدا کا تصور اپنی اصلی اور حقیقی صورت میں محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کو صحیح ترین روپ میں پیش کرتا ہے۔ اسلام کا خدا ایک خدا ہے۔ وہ ہر قسم کی طاقتوں کا مالک ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے تنہا پوری کائنات کو پیدا کیا اور وہی تنہا پوری کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور بولتا ہے۔ وہ آدمی کی پکار پر ہر وقت اس کا ساتھ دینے کے لئے موجود رہتا ہے۔ اس سے ہر وقت اور ہر مقام پر انسان کا ربط قائم ہو سکتا ہے۔ ہر چیز اس کے قبضۂ اختیار میں ہے۔ وہ موت سے پہلے کے مرحلہ میں بھی آدمی کا مددگار ہے اور موت کے بعد کے مرحلہ میں بھی ــــــــ قرآن اسی خدا کا ایک تعارف ہے جس کو خدا کا کامل تعارف حاصل کرنا ہو اس کو قرآن پڑھنا چاہئے۔ حصّہ دوم موجودہ زمانہ میں تمام قومیں اجتماعی مسائل سے دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا غیر ترقی یافتہ ممالک، ہر جگہ انسانی معاشرہ ظلم و فساد کا شکار ہے۔ ہر جگہ یہ سوال درپیش ہے کہ معاشرہ کی تنظیم کس طرح کی جائے کہ وہ بہتر انسانی معاشرہ بن سکے۔ انسانی مسائل پر غور کرتے ہوئے سب سے اہم بات جو سامنے آتی ہے وہ یہ کہ انسان ایک ایسی دنیا میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے سوال سے دوچار ہے جہاں بقیہ تمام چیزوں کے مسائل اول روز سے حل شدہ ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان نے کائنات کی شاہراہ کو چھوڑ رکھی ہے۔ اگر وہ خود بھی اسی شاہراہ پر آجائے جس پر بقیہ تمام چیزیں چل رہی ہیں تو اس کے مسائل بھی اسی طرح حل ہو جائیں گے جس طرح بقیہ چیزوں کے مسائل حل ہو چکے ہیں۔ کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی آفاقی قانون میں جکڑی ہوئی ہیں۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ ہر ایک اپنے لئے الگ الگ راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز دوسروں کے لئے نفع بخش بن کر زندہ ہے۔ مگر انسان دوسروں کے استغلال پر اپنا مستقبل تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ کائنات میں اگر کوئی چیز بلند ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader