Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

خدا کا بگڑا ہوا تصور

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

تو وہ اپنا سایہ زمین پر ڈال کر تو واضح کا اعتراف کرتی ہے۔ مگر انسان کو اگر کوئی بڑائی مل جائے تو وہ گھمنڈ کا اظہار کرتا ہے۔ کائنات میں ہر چیز صرف اپنے کام میں لگی ہوئی ہے، وہ کسی دوسرے سے نہیں ٹکراتی مگر انسان دوسروں سے ٹکراتا ہے۔ وہ دوسرے کی تخریب پر اپنی تعمیر کا منصوبہ بناتا ہے۔ کائنات میں ایسے "سیلاب" آتے ہیں جن کو آزادانہ موقع دیا جائے تو وہ سخت تباہی پھیلائیں۔ مگر کائنات نظام یہ کرتا ہے کہ ان کا رخ ندیوں اور سمندروں کی گہرائی کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اس کے برعکس انسانوں کے یہاں جب منفی جذبات کا طوفان اٹھتا ہے تو وہ اس کے رخ کو نہیں پھیرتے۔ یہاں ہر آدمی صرف یہ جانتا ہے کہ اپنی آفت کو دوسرے کے اوپر ڈال دے۔ معاشرہ کی اصلاح کے سلسلے میں اصل ضرورت یہ ہے کہ اس تضاد کو ختم کیا جائے۔ انسانی معاشرہ کو بھی اسی آفاقی نظام کا پابند بنایا جائے جس میں بقیہ تمام کائنات جکڑی ہوئی ہے۔ جس دن ایسا ہوگا اسی دن انسانی زندگی کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ جس قانون کو اختیار کرنے کے نتیجے میں بقیہ کائنات کے مسائل حل شدہ ہیں اسی قانون کو اختیار کرنے سے انسانی زندگی کے مسائل کیوں حل نہ ہوں گے۔ اجتماعی مسائل اجتماع کیا ہے۔ اجتماع در اصل افراد ہی کے مجموعہ کا دوسرا نام ہے۔ سوسائٹی کا سلوک دراصل فرد فرد کے سلوک ہی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ افراد صحیح ہوں تو سوسائٹی صحیح ہوگی۔ افراد غلط ہوں تو سوسائٹی بھی غلط ہو جائے گی۔ خدا کا عقیدہ سوسائٹی کے ہر فرد کو صحیح ترین نقطہ نظر دیتا ہے۔ وہ فرد فرد میں سنجیدگی پیدا کرتا ہے۔ اس طرح وہ ہر فرد کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ وہی کرے جو بحیثیت مجموعی پوری انسانیت کے لئے مفید ہے۔ اور وہ نہ کرے جو مجموعی انسانیت کے لئے مفید نہیں۔ خدا کا عقیدہ عظیم ترین دریافت ہے۔ وہ آدمی کی پوری شخصیت کو ہلا دیتا ہے۔ اس کی مثال کیرم بورڈ سے دی جاسکتی ہے۔ کیرم کے کھیل میں بورڈ کے درمیان 19 گوٹیں ہوتی ہیں۔ کھلاڑی اگر اسٹرائکر کو اس طرح مارے جس سے تمام گوٹوں پر زد پڑ جائے تو ایسی مار کو شاہ ضرب (Master Stroke) کہتے ہیں۔ خدا پر عقیدہ بھی اسی قسم کا ایک ماسٹر اسٹروک ہے۔ خدا پر عقیدہ انسان کی پوری ہستی پر ضرب لگاتا ہے۔ وہ آدمی کی تمام قوتوں کو متحرک بنا دیتا ہے۔ خدا پر عقیدہ بظاہر ایک چیز ہے مگر وہ انسان کو ہر پہلو سے ایک اصلاح یافتہ انسان بنا دیتا ہے۔ اس کے بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page