Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

خدا کا بگڑا ہوا تصور

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ہے کہ دریا کے پانی کے لیے روک ٹوک بہاؤ پر کنٹرول قائم کیا جائے ۔ جب بھی ایسا ہو کہ پانی حد سے بڑھتا ہو نظر آئے تو اس کے رخ کو موڑ کر دوسری طرف کر دیا جائے تاکہ وہ دریا میں داخل ہو کر طغیانی نہ لاسکے بلکہ علیحدہ سے بنے ہوئے عظیم گڑھنے میں جا کر گر جائے جس کو عام طور پر ذخیرہ آب (Reservoir) کہا جاتا ہے۔ یہی اصول مشینوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے مثلاً سٹیم انجن میں جب سٹیم کی مقدار متعینہ حد سے زیادہ ہو جاتی ہے تو سٹیم کے رخ کو پھر کر اسے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کی اجتماعی زندگی کا بھی ہے۔ مختلف انسان جب مل جل کر رہتے ہیں تو ان کے درمیان بار بار شکایت کی باتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں تلخیاں ابھرتی ہیں۔ اگر اس شکایت اور تلخی کو بڑھنے دیا جائے تو اختلاف اور عنادا اور مقابلہ کی نوبت آجاتی ہے۔ انسانی جماعت یا انسانی معاشرہ کا درست طور پر کام کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں انسان کے لیے بھی ایک ایسی چیز کی ضرورت ہے جس کی طرف اس کے جذبات کے محتر اضافہ کو موڑا جا سکے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ زندگی میں یہی کام کرتا ہے۔ وہ اجتماعیت کو نقصان پہنچانے والے جذبات کو انسان کی جانب سے موڑ کر خدا کی طرف کر دیتا ہے۔ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے آپ کو باپ سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے سگے بھائی بن یامین کے ساتھ بھی اسی قسم کا حادثہ پیش آیا۔ ان ناخوشگوار واقعات کے بعد قدرتی طور پر حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب کے اندر شدید جذبات پیدا ہوئے۔ آپ اگر اپنے ان جذبات کا نشانہ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں کو بناتے تو زبردست انتشار اور اختلاف پیدا ہوتا۔ مگر آپ نے اپنے جذبات کے ہجوم کو خدا کی طرف موڑ دیا۔ آپ نے فرمایا : انما اشکو بثی وحزنی الی اللہ۔ اسی طرح عمر فاروق رضی نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسلامی جنرل خالد بن الولید کو معزول کر دیا۔ یہ خالد بن الولید جیسے شخص کے لئے زبردست دھٹکا تھا۔ مگر انہوں نے اپنے تمام جذبات کو یہ کہہ کر خدا کی طرف موڑ دیا : انی لا اقاتل في سبيل عمر ولكن اقاتل في سبيل رب (عمر میں عمر کے راستہ میں نہیں لڑتا بلکہ خدا کے راستہ میں لڑتا ہوں) یہ کسی انسانی معاشرہ کے لئے عقیدہ آخرت کی بہت بڑی دین ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی شکایات کی تلافی کے لئے خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ اس نے جو کچھ انسان سے نہیں پایا، اس کو وہ خدا سے پانے کی امید کر لیتا ہے۔ اس طرح خدا پرست آدمی کے منفی جذبات اپنے ہم جنسوں کی طرف رخ کرنے کے بجائے خدا کی طرف محول (Divert) ہوتے رہتے ہیں۔ جو پانی سیلاب بن کر انسانی آبادی کو نقصان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page