Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب اور سائنس اس وقت مجھے جس عنوان پر اپنے خیالات پیش کرنا ہے وہ ہے ــــ مذہب اور سائنس۔ مذہب اور سائنس دونوں بہت وسیع الفاظ ہیں ۔ مذہب زندگی کا ایک تصور اور اس تصور پر بننے والے ایک ہمہ گیر طرزِ عمل کا نام ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں کے بارے میں اپنے کچھ مطالبات اور تقاضے رکھتا ہے ۔ اور سائنس اس محسوس دنیا کے مطالعہ کا نام ہے جو ہمارے مشاہدے اور تجربے میں آتی ہے یا آسکتی ہے ۔ اس اعتبار سے دونوں نہایت وسیع موضوعات ہیں اور ان کے دائرے بہت سے پہلوؤں سے ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ مجھے یہاں دونوں کی تفصیلات پر کوئی بحث نہیں کرنی ہے ۔ اس مقالے کا موضوع صرف وہ فرضی یا حقیقی تصادم ہے جو سائنس اور مذہب کے درمیان علمی حیثیت سے واقع ہوا اور جس کے کچھ نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔ میں مختصر طور پر صرف اس دعوے سے بحث کرنا چاہتا ہوں جس میں دہرایا گیا ہے کہ سائنس کی دریافتوں نے مذہب کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے ۔ سائنس اور مذہب کا روایتی ٹکراؤ خاص طور پر اٹھارھویں اور انیسویں صدی کی پیداوار ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جبکہ جدید سائنس کا ظہور ہوا۔ سائنسی دریافتوں کے سامنے آنے کے بعد بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اب خدا کو ماننے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ خدا کو ماننے کی ایک بہت بڑی وجہ ، دوسری وجہوں کے ساتھ یہ تھی کہ اس کو مانے بغیر کائنات کی توجیہ نہیں بنتی۔ مخالفین مذہب نے کہا کہ اب اس مقصد کے لئے ہم کو خدائی مفروضے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ہم آسانی کے ساتھ پوری کائنات کی اس طرح تشریح کر سکتے ہیں کہ کسی بھی مرحلے میں خدا کو ماننے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔ اس طرح خدا کا خیال ان کی نظر میں ایک بے ضرورت چیز بن گیا اور جو خیال بے ضرورت ہو جائے اس کا بے بنیاد ہونا لازمی ہے۔ یہ دعویٰ جب کیا گیا ، اس وقت بھی اگرچہ وہ علمی حیثیت سے نہایت کمزور تھا۔ مگر اب تو خود سائنس نے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ اس کے پاس اس قسم کا دعویٰ کرنے کے لئے اطمینان بخش دلائل موجود نہیں ہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page