مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس کی وہ کیا دریافت تھی جس لوگوں کو نظر آیا کہ اب خدا کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ وہ خاص طور پر یہ تھا کہ سائنس نے معلوم کیا کہ کائنات کچھ قوانینِ فطرت کی تابع ہے۔ قدیم زمانے کا انسان سادہ طور پر یہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کرنے والا خدا ہے۔ مگر جدید ذرائع اور جدید طرزِ تحقیق کی روشنی میں دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ ہر واقعہ کے پیچھے ایک ایسا سبب موجود ہے جس کو تجربہ کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً نیوٹن کے مشاہدے میں نظر آیا کہ آسمان کے تمام ستارے اور سیارے کچھ ناقابلِ تغیر قوانین میں بندھے ہوتے ہیں اور انھیں کے تحت حرکت کرتے ہیں۔ ڈارون کی تحقیق نے اسے بتایا کہ انسان کسی خاص تخلیقی حکم کے تحت وجود میں نہیں آیا بلکہ ابتدائی زمانے کے کیڑے مکوڑے سے عام مادی قوانین کے تحت ترقی کرتے کرتے انسان بن گئے ہیں۔ اس طرح مطالعہ اور تجربے کے بعد زمین سے لے کر آسمان تک سارے واقعات ایک معلوم نظام کے تحت ظاہر ہوتے ہوئے نظر آئے ۔ جس کو قانونِ فطرت (Law of Nature) کا نام دیا گیا۔ قانونِ فطرت کا یہ عمل اس درجہ موثر تھا کہ اس کے بارے میں پیشگی خبر دی جا سکتی تھی۔ اس دریافت کا مطلب یہ تھا کہ جس کائنات کو ہم سمجھتے تھے کہ وہاں خدا کی کارفرمائی ہے ، وہ کچھ مادی اور طبیعیاتی قوانین کی کارفرمائیوں کے تابع تھی۔ جب ان قوانین کو استعمال کیا گیا اور اس کے کچھ نتائج بھی برآمد ہوتے تو انسان کا یقین اور زیادہ بڑھ گیا۔ جرمن فلسفی کانٹ نے کہا۔ " مجھے مادہ مہیا کرو اور میں تم کو بتا دوں گا کہ دنیا اس مادے سے کس طرح بنائی جاتی ہے " ہیکل (Haekel) نے دعویٰ کیا کہ " پانی ، کیمیاوی اجزاء اور وقت ملے تو وہ ایک انسان کی تخلیق کر سکتا ہے۔ نٹشے نے اعلان کر دیا کہ " اب خدا مر چکا ہے " اس طرح یہ یقین کر لیا گیا کہ اس کائنات کا خالق اور مالک کوئی زندہ اور صاحبِ ذہن و ارادہ ہستی نہیں ہے بلکہ کائنات از اول تا آخر ایک مادی کائنات ہے۔ کائنات کی ساری حرکتیں اور اس کے تمام مظاہر خواہ وہ ذی روح اشیار سے متعلق ہوں یا بے روح اشیار کے بارے میں ہوں ، اندھے مادی عمل کے سوا اور کچھ نہیں۔ سائنس نے جس دنیا کو دریافت کیا اس میں کہیں اس خدا کی کارفرمائی نظر نہیں آتی تھی جو تمام مذاہب کی بنیاد ہے ۔ پھر خدا کو مانا جائے تو کس لئے مانا جاتے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader