انسان اپنے آپ کو پہچان
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کوشش کی مدت ختم ہونے کا آخری اعلان ہے اور آخرت اپنی کوششوں کا انجام پانے کی آخری جگہ۔ موت کے بعد نہ دوبارہ کوشش کرنے کا موقع ہے اور نہ آخرت کبھی ختم ہونے والی ہے۔ کتنا سنگین ہے یہ واقعہ۔ کاش انسان موت سے پہلے اس حقیقت کو سمجھ لے کیوں کہ موت کے بعد سمجھنا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ موت کے بعد ہوشیار ہونے کے معنی صرف یہ ہیں کہ آدمی اس بات پر افسوس کرے کہ اس نے ماضی میں کتنی بڑی غلطی کی ہے، ایک ایسی غلطی جس کی اب کوئی تلافی نہیں ہو سکتی۔ انسان اپنے انجام سے غافل ہے حالانکہ زمانہ اس کو نہایت تیزی سے اس وقت کی طرف لے جا رہا ہے جب فصل کاٹنے کا وقت آجائے گا۔ وہ دنیا کے حقیر فائدوں کو حاصل کرنے میں مصروف ہے اور سمجھتا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں۔ حالانکہ دراصل وہ اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کر رہا ہے۔ اس کے سامنے ایک عظیم موقع ہے جس کو استعمال کر کے وہ اپنے لئے ایک ناقابل قیاس حد تک شاندار استقبال بنا سکتا ہے۔ مگر وہ کنکریوں سے کھیل رہا ہے۔ اس کا رب اس کو اپنی جنت کی طرف بلا رہا ہے جو لا متناہی عزت اور آرام کی جگہ ہے۔ مگر وہ چند دن کی جھوٹی لذت میں کھویا ہوا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں حاصل کر رہا ہوں حالانکہ وہ صرف ضائع کر رہا ہے۔ دنیا میں مکان بنا کر وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی زندگی کی تعمیر کر رہا ہوں حالانکہ وہ صرف ریت کی دیواریں اٹھار ہا ہے جو اسی کے بنتی ہیں کہ بننے کے بعد منہدم ہو جائیں۔ انسان اپنے آپ کو پہچان۔ تو کیا کر رہا ہے اور تجھے کیا کرنا چاہئے ! (۱۹۶۰)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader