Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

انسان اپنے آپ کو پہچان

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری بات اوپر میں نے جو کچھ بیان کیا ہے۔ اب آخر میں پھر ایک بار اس کو اپنے ذہن میں دہرالیجئے۔ آپ کی زندگی ایک نہایت طویل اور مسلسل زندگی ہے۔ موت اس زندگی کی آخری حد نہیں ہے بلکہ وہ اس کے دوسرے دور کی ابتدا ہے۔ موت ہماری زندگی کے دومحلوں کے درمیان حد فاصل قائم کرتی ہے۔ اس کو مثال کے طور پر سمجھے کہ کسان ایک فصل بوتا ہے، اس پر کوشش کرتا ہے۔ اپنا سرمایہ اس میں لگاتا ہے۔ یہاں تک کہ فصل تیار ہو کر سوکھ جاتی ہے۔ اس وقت وہ اسے کاٹ لیتا ہے تاکہ اس سے غلہ حاصل کر کے اپنی سال بھر کی خوراک کا انتظام کرے۔ فصل کا کاٹنا فصل کے ایک دور کا ختم ہونا اور اس کے دوسرے دور کا آغاز ہونا ہے۔ اس سے پہلے بونا اور فصل کو تیار کرنا تھا۔ اس کے بعد اس کا پھل حاصل کرنا اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرنا ہے۔ فصل کٹنے سے پہلے صرف کوشش اور خرچ تھا اور فصل کٹنے کے بعد صرف اپنی محنت کا نتیجہ پانا اور اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔ ٹھیک یہی حال ہماری زندگی کا بھی ہے۔ ہم اس دنیا میں اپنی آخرت کی فصل تیار کر رہے ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص آخرت میں اپنا ایک کھیت رکھتا ہے جس میں وہ یا تو کاشت کر رہا ہے یا اس کو خالی چھوڑے ہوئے ہے۔ اس نے یا تو خراب بیج استعمال کئے ہیں یا اچھے بیج ڈالے ہیں۔ اس نے بیج ڈال کر یا تو اسے چھوڑ دیا ہے یا وہ بیج ڈالنے کے بعد مسلسل اس کی نگرانی کر رہا ہے اس نے یا تو کانٹوں کی فصل بوئی ہے یا پھل اور پھول اگائے ہیں۔ وہ یا تو اپنی ساری قوت اس کھیتی کو بہتر بنانے میں لگائے ہوئے ہے یا دوسرے غیر متعلق مشاغل اور دلچسپیوں میں بھی وہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔ اس فصل کی تیاری کی مدت اس وقت تک ہے جب تک ہم کو موت نہیں آ جاتی۔ موت آخرت کی فصل کاٹنے کا دن ہے۔ جب اس دنیا میں ہماری آنکھ بند ہوگی تو دوسری دنیا میں ہماری آنکھ کھلے گی۔ وہاں ہماری عمر بھر کی تیار کی ہوئی کھیتی ہمارے سامنے موجود ہوگی۔ یاد رکھیے کاٹنے کے دن وہی کاٹتا ہے جس نے کاٹنے سے پہلے کھیتی کی ہو اور وہی چیز کاٹتا ہے جو اس نے اپنے کھیت میں بوئی تھی۔ اسی طرح آخرت میں ہر شخص کو وہی فصل ملے گی جو اس نے موت سے پہلے تیار کی ہے۔ ہر کسان جانتا ہے کہ اس کے گھر میں ٹھیک اتنا ہی غلہ آئے گا جتنی اس نے محنت کی ہے اور وہی چیز آئے گی جو اس نے بوئی تھی۔ اسی طرح آخرت میں بھی آدمی کو اس کے بقدر ملے گا جتنی اس نے جدوجہد کی ہے اور وہی کچھ ملے گا جس کے لئے اس نے کوشش کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page