Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

سچائی کا اعتراف

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی حقیقت کے ثابت شدہ ہونے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کا نظری طور پر ثابت ہونا دوسرے اس کا مادی طور پر ثابت شدہ بن جانا۔ غیر مذہبی حقیقت موجودہ دنیا میں آخری حد تک ثابت ہو جاتی ہے۔ جب کہ مذہبی حقیقت موجودہ دنیا میں صرف نظری طور پر ثابت ہوتی ہے۔ مادی یا ظاہری طور پر وہ صرف آخرت کی دنیا میں ثابت شدہ بنے گی۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مذہبی حقیقت کو لوگ فوراً مان لیتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے معاملہ میں انسان کے لئے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس کا انکار کرنا اپنے آپ کو انسانیت کے قافلہ سے کاٹ لینے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس مذہبی حقیقت کو اکثر حالات میں آدمی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں وہ صرف نظری طور پر ثابت ہوتی ہے۔ اس کا حسی اور ظاہری اثبات صرف آخرت کی دنیا میں ہوگا۔ اس بنا پر یہاں آدمی کے لئے ، ہمیشہ یہ گنجائش موجود رہتی ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ الفاظ بول کر اس کا انکار کر دے۔ مگر یہی آدمی کا اصل امتحان ہے۔ نظری دلائل کی سطح پر حقیقت کو پہچاننے ہی کا دوسرا نام ایمان ہے، اور ایمان کے بغیر کسی کو خدا کی جہت نہیں مل سکتی۔ قیامت میں تمام لوگ مجبور ہوں گے کہ وہ حقیقت کا اعتراف کریں۔ کیوں کہ وہاں حقیقت اپنی آخری اور کامل صورت میں ظاہر ہو جائے گی۔ مگر دنیا میں حقیقت کو وہی لوگ مانتے ہیں جو کسی چیز کو اس کے معنوی جوہر کے اعتبار سے پہچانے کا حوصلہ رکھتے ہوں گویا جو کچھ عام لوگوں پر قیامت کے دن گزرنے والا ہے وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔ وہ دیکھنے سے پہلے دیکھ لیتا ہے۔ یہ " دیکھنے سے پہلے دیکھنا" ہی دراصل جنت کی قیمت ہے۔ جو اس کا ثبوت دے وہی وہ شخص ہے جس کو خدا کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page