Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

حقیقت کی تلاش

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سوال کو ہم ایک لفظ میں "حقیقت کی تلاش" کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر اس کا تجزیہ کریں تو یہ بہت سے سوالات کا مجموعہ نکلے گا۔ یہ سوالات کیا ہیں ان کو مختلف الفاظ میں ظاہر کیا جا سکتا ہے مگر میں آسانی کے لئے ان کو مندرجہ ذیل تین عنوانات کے تحت بیان کروں گا۔ ۱۔ خالق کی تلاش ۲۔ معبود کی تلاش ۳۔ اپنے انجام کی تلاش حقیقت کی تلاش دراصل ان ہی تینوں سوالات کا جواب معلوم کرنے کا۔ آپ خواہ جن الفاظ میں بھی اس سوال کی تشریح کریں مگر "حقیقت" وہ اسی کی بدلی ہوئی تعبیر ہوگی اور ان ہی تین عنوانات کے تحت انھیں اکٹھا کیا جا سکے گا۔ بظاہر یہ سوالات ایسے ہیں جن کے بارہ میں ہم کچھ نہیں جانتے، اور نہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایسا کوئی بورڈ لگا ہوا نظر آتا ہے جہاں ان کا جواب لکھ کر رکھ دیا گیا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو سوال ہے اسی کے اندر اس کا جواب موجود ہے۔ کائنات اپنی حقیقت کی طرف آپ اشارہ کرتی ہے، اگر چہ وہ ہم کو یقینی علم تک نہیں لے جاتی۔ لیکن یہ اشارہ اتنا واضح اور قطعی ہے کہ اگر ہم کو کسی ذریعہ سے حقیقت کا علم حاصل ہو جائے تو ہمارا ذہن پکار اٹھتا ہے کہ یقیناً یہی حقیقت ہے اس کے سوا کائنات کی کوئی اور حقیقت نہیں ہو سکتی۔ خالق کی تلاش کائنات کو دیکھتے ہی جو سب سے پہلا سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ اس کا بنانے والا کون ہے اور وہ کون ہے جو اس عظیم کار خانے کو چلا رہا ہے۔ پچھلے زمانوں میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ بہت سی ان دیکھی طافتیں اس کائنات کی مالک ہیں۔ ایک بڑے خدا کے تحت بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کا انتظام کر رہے ہیں۔ اب بھی بہت سے لوگ اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر علمی دنیا میں عام طور پر اب یہ نظریہ ترک کیا جا چکا ہے۔ آج یہ ایک مردہ نظریہ ہے نہ کہ زندہ نظریہ۔ موجودہ زمانہ کے وہ لوگ جو اپنے آپ کو ترقی یافتہ کہتے ہیں اور جن کا خیال ہے کہ وہ جدید دور کے انسان ہیں۔ وہ شرک کے بجائے الحاد کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کائنات کسی ذی شعور ہستی کی کار فرمائی نہیں ہے بلکہ ایک اتفاقی حادثہ کا نتیجہ ہے اور جب کوئی واقعہ وجود میں آجائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page