Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

معبود کی تلاش

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

خواہشیں غیرحقیقی ہیں جن کا واقعی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے تمام بہترین تخیلات کائنات کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں اور ہمارے ذہنوں میں بالکل الٹ طریقے سے پیدا ہوگئے ہیں، وہ تمام احساسات جن کو لے کر انسانی نسل پچھلے ہزاروں سال سے پیدا ہورہی ہے اور جن کو اپنے سینہ میں لئے ہوئے وہ اس حال میں دفن ہوجاتی ہے کہ وہ انھیں حاصل نہ کرسکی، کیا ان احساسات کی کوئی منزل نہیں۔ کیا وہ انسانوں کے ذہن میں بس یونہی پیدا ہورہے ہیں جن کے لئے نہ تو ماضی میں کوئی بنیاد موجود ہے اور نہ مستقبل میں ان کا کوئی مقام ہے۔ ساری کائنات میں صرف انسان ایک ایسا وجود ہے جو کل (Tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ مستقبل کے بارہ میں سوچتا ہے اور اپنے آئندہ حالات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض جانور مثلاً چونٹیاں خوراک جمع کرتی ہیں یا بیا گھونسلے بناتے ہیں۔ مگر ان کا یہ عمل غیر شعوری طور پر محض عادتاً ہوتا ہے۔ ان کی عقل اس کا فیصلہ نہیں کرتی کہ انھیں خوراک جمع کر کے رکھنا چاہئے تاکہ کل ان کے کام آسکے یا ایسا گھر بنانا چاہئے جو موسموں کے ردوبدل میں تکلیف سے بچائے۔ انسان اور دوسری مخلوقات کا یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو تمام دوسری چیزوں سے زیادہ موقع ملنا چاہئے ، جانوروں کے لئے زندگی صرف آج کی زندگی ہے، وہ زندگی کا کوئی کل نہیں رکھتے ، کیا اسی طرح انسانی زندگی کا بھی کوئی کل نہیں ہے۔ ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے، فردا کا تصور جو انسان میں پایا جاتا ہے اس کا صریح تقاضا ہے کہ انسان کی زندگی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہو جتنی آج اسے حاصل ہے انسان "کل " چاہتا ہے مگر اس کو صرف " آج " دیا گیا ہے ! اسی طرح جب ہم سماجی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو ایک خلا کا زبردست احساس ہوتا ہے۔ ایک طرف مادی دنیا ہے جو اپنی جگہ پر بالکل مکمل نظر آتی ہے۔ وہ ایک متعین قانون میں جکڑی ہوئی ہے اور اس کی ہر چیز اپنے مقرر رستہ پر چلی جارہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں مادی دنیا ویسی ہی ہے جیسی کہ اسے ہونا چاہئے مگر انسانی دنیا کا حال اس سے مختلف ہے۔ یہاں صورت حال اس کے برعکس ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہئے تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page