Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

معبود کی تلاش

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم صریح طور پر دیکھتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے اور دونوں اس حال میں مرجاتے ہیں کہ ایک ظالم ہوتا ہے اور دوسرا مظلوم۔ کیا ظالم کو اس کے ظلم کی سزا اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کا بدلہ دیے بغیر دونوں کی زندگی کو مکمل کہا جاسکتا ہے ۔ ایک شخص سچ بولتا ہے اور حق داروں کو ان کے حقوق ادا کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی مشکل کی زندگی بن جاتی ہے، دوسرا شخص جھوٹ اور فریب سے کام لیتا ہے اور جس کی جو چیز پاتا ہے ہڑپ کرلیتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی نہایت عیش و عشرت کی زندگی بن جاتی ہے۔ اگر یہ دنیا اسی حال میں ختم ہوجائے تو کیا دونوں انسانوں کے اس مختلف انجام کی کوئی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالتی ہے اور اس کے وسائل و ذرائع پر قبضہ کرلیتی ہے مگر اس کے باجود دنیا میں وہی نیک نام رہتی ہے کیونکہ اس کے پاس نشر و اشاعت کے ذرائع ہیں اور دبی ہوئی قوم کی حالت سے دنیا ناواقف رہتی ہے کیونکہ اس کی آہ کے دنیا کے کانوں تک پہو نچنے کا کوئی ذریعہ نہیں، کیا ان دونوں کی صحیح حیثیت کبھی ظاہر نہیں ہوگی۔ دو اشخاص یا دو قوموں میں ایک مسئلہ پر اختلاف ہوتا ہے اور زبردست کش مکش تک نوبت پہونچ جاتی ہے۔ دونوں اپنے آپ کو بر سر حق کہتے ہیں اور ایک دوسرے کو انتہائی برا ثابت کرتے ہیں مگر دنیا میں ان کے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوتا، کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے جو ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرسکے۔ موجودہ دور کو ایٹمی دور کہا جاتا ہے لیکن اگر اس کو دوسری کا دور کہیں تو نہ یادہ صحیح ہوگا۔ آج کا انسان صرف اپنی رائے اور خواہش پر چلنا چاہتا ہے خواہ اس کی رائے اور خواہش کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو۔ ہر شخص غلط کار ہے مگر ہر شخص گلے کی پوری قوت کے ساتھ اپنے کو صحیح ثابت کر رہا ہے۔ اخبارات میں لیڈروں اور حکم رانوں کے بیانات دیکھئے، ہر ایک انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے ظلم کو عین انصاف اور اپنی غلط کار یوں کو عین حق ثابت کرتا ہوا نظر آئے گا۔ کیا اس فریب کا پر دہ کبھی چاک ہونے والا نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال صریح طور پر ظاہر کر رہی ہے کہ یہ دنیا نامکمل ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے ایک ایسی دنیا چاہئے جہاں ہر ایک کو اس کا صحیح مقام مل سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page