قرآن اپنی دلیل آپ
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ ه كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ ه وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ ه كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ه إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ ٥ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّينِ ٥ وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ ٥ وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ٥ ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ه يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا ط وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ ه کچھ نہ کر سکے گا اور اس دن اقتدار صرف خدا میں ڈال رکھا ہے۔ جس نے تجھے خلق کیا تیرا تسویہ فرمایا اور پھر مناسبت قائم کی۔ اس نے جیسا چاہا ویسا تم کو بنایا، نہیں بلکہ تم فیصلہ کے دن، کا انکار کرتے ہو۔ حالاں کہ تمہارے اوپر نگہبان مقرر ہیں صحیح صحیح لکھنے والے۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ یقیناً اچھے لوگوں کے لئے نعمتیں ہیں اور یقیناً برے لوگوں کے لئے جہنم ہے۔ وہ فیصلہ کے روز اس میں ڈالے جائیں گے اور وہ ہر گز اس سے بھاگ نہیں سکتے اور کیا تم جانتے ہو کہ فیصلہ کا دن کیا ہے پھر کیا تم جانتے ہو کہ فیصلہ کا دن کیا ہے وہ ایک ایسا دن ہے جب کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لئے کے لئے نہ ہوگا۔ کچھ نہ کرے گا اور اس دن اقتدار صرف خدا کے لئے ہوگا۔ کس قدر یقین سے بھر ہوا ہے یہ کلام جس میں زندگی کی ابتدا اور انتہا سب کچھ بیان کردی گئی ہے۔ کوئی بھی انسانی کتاب جو زندگی اور کائنات کے موضوع پر لکھی گئی ہو، اس یقین کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ سیکڑوں سال سے انسان کائنات کی حقیقت پر غور کر رہا ہے، بڑے بڑے فلسفی اور سائنس داں پیدا ہوئے، مگر کوئی اس یقین کے ساتھ بولنے کی جرات نہ کر سکا۔ سائنس آج بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ وہ کسی قطعی اور صحیح علم سے ابھی بہت دور ہے جب کہ قرآن اس قدر یقین کے ساتھ بات کہتا ہے گویا وہ علم کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور حقیقت سے آخری حد تک واقف ہے۔ ۲۔ قرآن کے کلام الہی ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس نے مابعد الطبیعی حقائق سے لے کر تمدنی مسائل تک تمام اہم امور پر گفتگو کی ہے مگر کہیں بھی اس کے بیانات میں تضاد نہیں پایا جاتا۔ اس کلام کے اوپر تقریبا ڈیڑھ ہزار برس پورے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader