Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

قرآن اپنی دلیل آپ

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو رہے ہیں۔ اس دوران میں بہت سی نئی نئی باتیں انسان کو معلوم ہوئی ہیں مگر اس کی باتوں میں اب بھی کوئی تضاد ظاہر نہ ہوسکا، حالاں کہ انسانوں میں سے کسی ایک فلسفی کا بھی اس حیثیت سے نام نہیں لیا جا سکتا کہ اس کا کلام تضاد اور اختلاف سے پاک ہے۔ اس دوران میں ہزاروں فلسفی پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی عقل سے زندگی اور کائنات کی توجیہہ کرنے کی کوشش کی مگر بہت جلد ان کے کلام کا تضاد ظاہر ہو گیا اور رزمانہ نے انھیں رد کر دیا۔ کسی کلام کا تضاد سے پاک ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقت سے کلی مطابقت رکھتا ہے۔ جو شخص حقیقتوں کا علم نہ رکھتا ہو یا صرف جزئی علم اسے حاصل ہو وہ جب بھی حقیقت کو بیان کرنے بیٹھے گا لازمی طور پر تضادات کا شکار ہو جائے گا۔ وہ ایک پہلو کی تشریح کرتے ہوئے دوسرے پہلو کی رعایت نہ کر سکے گا۔ وہ ایک رخ کو کھولے گا تو دوسرے رخ کو بند کر دے گا۔ زندگی اور کائنات کی توجیہہ کا سوال ایک ہمہ گیر سوال ہے۔ اس کے لئے ساری حقیقتوں کا علم ہونا ضروری ہے۔ اور چونکہ انسان اپنی محدود صلاحیتوں کی بنا پر ساری حقیقتوں کا علم حاصل نہیں کر سکتا۔ اس لئے وہ سارے پہلوؤں کی رعایت بھی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے فلسفوں میں تضاد کا پایا جانا لازمی ہے۔ قرآن کی یہ خصوصیت کہ وہ اس قسم کے تضادات سے پاک ہے اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ وہ حقیقت کی صحیح ترین تعبیر ہے ، اس کے سوا تمام تعبیریں غلط ہیں ، اس واقعہ کو میں مثال کے ذریعہ واضح کروں گا۔ ۱۔ زندگی کے موضوع پر جو کتاب لکھی جائے اس کا ایک ضروری باب زندگی کے فرائض متعین کرنا ہے۔ یہ فرائض متعین کرنے میں ضروری ہے کہ ان کے مختلف پہلوؤں کی ٹھیک ٹھیک رعایت کی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک پہلو سے کوئی ایسا حکم دیا جائے جو دوسرے پہلو سے ٹکراتا ہو۔ مثلاً عورت اور مرد کی حیثیت متعین کرنا تمدنی زندگی کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور نے یہ قرار دیا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان مساوات ہونی چاہئے اور زندگی کے ہر شعبہ میں دونوں کو یکساں طور پر کام کرنے کا موقع دینا چاہئے ، مگر یہاں انسانی ساخت کا یہ تمدنی اصول ایک نہایت اہم صورت واقعی سے ٹکرا رہا ہے۔ یعنی اس حقیقت سے کہ حیاتیات (Biology) کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان مساوات نہیں، اور یہ ممکن نہیں کہ دونوں یکساں طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page