قرآن اپنی دلیل آپ
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ باقاعدہ طور پر زندگی سے عداوت رکھتی ہے ۔ اب ہم نے دریافت کر لیا ہے کہ کائنات ایک ایسی خالق یا مدبر طاقت (Designing or Controlling Power) کا ثبوت فراہم کررہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ ملتی جلتی ہے۔“ (ماڈرن سائنٹفک تھاٹ، صفحہ نمبر ۱۰) یہ نظری پہلو کی مثال تھی، اب عملی پہلو سے متعلق ایک مثال لیجئے۔ اسلام نے معاشرتی زندگی کا جو قانون بنایا ہے اس میں ایک مرد کو اجازت دی ہے کہ وہ چار عورتوں تک سے شادی کر سکتا ہے۔ اسلام کے بعد جب مغربی تہذیب اٹھی تو اس نے اس قانون کا بہت مذاق اڑایا اور اس کو جاہلیت کے زمانہ کا وحشی قانون قرار دیا۔ اس کے نزدیک یہ قانون عورتوں کے ساتھ سراسر نا انصافی تھی اور اس بنیاد پر کبھی بھی کوئی ترقی یافتہ تمدن تعمیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چنا بچہ مسیحیت میں اگر چہ اس کی گنجایش موجود تھی مگر مغربی تہذیب نے اس کو یک قلم اپنے یہاں سے خارج کر دیا اور اس کو ایک نہایت ذلیل فعل قرار دیا کہ کوئی شخص ایک عورت رکھتے ہوئے دوسری عورت سے شادی کرے ۔ اس کی تبلیغ اس زور شور سے کی گئی کہ اب یہ حال ہے کہ نہ کوئی مرد اس کی جرأت کر سکتا ہے اور نہ کوئی عورت اپنے بارہ میں ایسا سوچ سکتی ہے کہ وہ کسی شخص کی دوسری یا تیسری بیوی بنے۔ مگر حالات نے۔۔۔۔ اور خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے حالات نے۔۔۔۔ اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دراصل زندگی کی ایک عملی ضرورت ہے۔ کبھی بعض افراد کی زندگی میں اور کبھی پوری جماعت کے لئے ایسے غیر معمولی حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ دو میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب نا گزیر ہو جاتا ہے۔ یا تو فواحش اور بد کاری کو قبول کیا جائے جس کا مطلب پورے تمدن کو ہو لناک خطرہ میں مبتلا کر دینا ہے یا تعدد ازدواج کو اختیار کیا جائے جس سے مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے اور کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان تمام ملکوں میں جو جنگ میں شریک تھے، یہ صورت حال پیش آئی کہ عورتیں زندہ رہیں اور مرد کثرت سے ہلاک ہو گئے۔ چنانچہ مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی جس کا اثر ابھی تک باقی ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader