Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

قرآن اپنی دلیل آپ

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۵۶ء کے اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں ہر ایک مرد کے مقابلہ میں آٹھ عورتیں تھیں۔ اس جنگ کا سب سے زیادہ اثر جرمنی پر پڑا جہاں بے شمار عورتیں بیوہ اور کتنے بچے یتیم ہو گئے اور لڑکیوں کے لئے شوہر ملنا مشکل ہو گیا۔ اس وجہ سے ان ملکوں میں لاوارث اور ناجائز بچوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ۔ جو یتیم ہو گئے تھے ان کا کوئی وارث نہیں رہا اور جو عورتیں شوہر سے محروم ہو گئی تھیں انھوں نے فطری تقاضے سے مجبور ہو کر اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے ناجائز طریقہ اختیار کرنے شروع کر دیئے ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جرمنی میں بعض عورتوں کے گھروں پر اس قسم کا بورڈ نظر آنے لگا کہ: (Wanted an Evening Guest) رات گزارنے کے لئے ایک مہمان چاہئے) دوسری جنگ عظیم میں لڑنے والے ملکوں کے بیشمار مرد مارے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عورتیں شادی شدہ زندگی سے مایوس ہو کر طوائف کی زندگی گزارنے لگیں ، جیمر کیمروں (James Cameron دوسری جنگ عظیم میں جرمنی میں نامہ نگار تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنی یادداشت شائع کی ہے۔ یہ برطانی نامہ نگار اس میں لکھتا ہے کہ جنگ کے خاتمہ پر جب میں برلن گیا تو شکست خوردہ شہر بنیادی طور پر بھوکی طوائفوں (Hungry Whores) سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے اس کو اپنے ذہن سے نکالنا چاہا مگر میں نہ نکال سکا ۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں ۔ It is not so much that I have no stomach for the fight, I had no stomach for the victory. ایسا نہ تھا کہ جنگ کی برداشت کی طاقت مجھ میں نہ ہو۔ مگر فتح کو برداشت کرنے کی طاقت مجھ میں نہیں تھی (گارڈین، ۱۰ اکتوبر ۱۹۸۲ء) اگر چہ مغربی ذہن نے ابھی تک اس معاملہ میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کی ہے مگر واقعات نے صریح طور پر اس کا غلط ہونا ثابت کر دیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب زبان سے بھی اس کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس وقت معلوم ہوگا کہ نکاح کے معاملہ میں جس اصول کو مغرب نے اختیار کیا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ سماج کو فحاشی میں مبتلا کر کے بے شمار جرائم کا درازہ کھول دیا جائے ۔ جب کہ اسلام کا اصول اصل مسئلہ کو بہترین طریقہ پر حل کرتا ہے اور سماج کو بہت شدید نقصانات سے بچا لیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page