Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

قرآن اپنی دلیل آپ

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کے نظریات اور اس کے قوانین کی ابدیت کی یہ دو مثالیں تھیں جن سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انسانی ساخت کے نظریے اور قوانین بن بن کر بگڑتے رہے مگر قرآن نے پہلے دن جو کچھ کہا تھا آخر دن تک اس کی سچائی میں کوئی فرق نہیں آیا وہ پہلے جس طرح حق تھا آج بھی اسی طرح حق ہے۔ قرآن کی یہ خصوصیت ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایک ایسے ذہن سے نکلا ہے جس کا علم ماضی اور مستقبل پر محیط ہے۔ قرآن کی ابدیت قرآن کے کلام الہیٰ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔ آخری بات ہمارے مطالعہ نے اب ہمارے لئے حقیقت کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ ہم نے اپنے سفر کا آغاز اس سوال سے کیا تھا کہ "ہم کیا ہیں اور یہ کائنات کیا ہے" اس کا جواب بہت سے لوگوں نے اپنے ذہن سے دینے کی کوشش کی ہے، مگر ہم نے دیکھا کہ یہ جوابات حقیقت کی صحیح تشریح نہیں کرتے۔ پھر ہمارے کانوں میں عرب سے نکلی ہوئی ایک آواز آئی۔ ہم نے اس پر غور کیا، اس کو کائنات کے فریم میں رکھ کر دیکھا، انسانی تاریخ میں اسے آزمایا اور فطرت کی گہرائیوں میں اتر کر اس کو پہچاننے کی کوشش کی ۔ ہم نے دیکھا کہ کائنات، تاریخ اور انسانی نفسیات متفقہ طور پر اس کی تصدیق کر رہے ہیں، ہمارا اتمام علم اور ہمارے بہترین احساسات بالکل اس کی تائید میں ہیں۔ جس حقیقت کی ہمیں تلاش تھی اس کو ہم نے پالیا۔ اب ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی اسٹوڈنٹس یونین کی طرف سے اسلامی تقریروں کا ایک ہفتہ منایا گیا جس کا عنوان تھا سلسلہ تقاریر اسلام Series of lecture on Islam اس موقع پر راقم الحروف نے ۶ ستمبر ۱۹۵۸ کو یونیورسٹی کے یونین ہال میں ایک تقریر کی جو بعد کو اردو میں "حقیقت کی تلاش" اور عربی میں "الفحص عن الحق" کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ مقالہ اسی کا نظرثانی کیا ہوا ایڈیشن ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page