Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

خدا کا وجود

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات اتنی پر حکمت اور اتنی منظم ہے کہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی اتفاقی حادثے کے طور پر وجود میں آگئی ہو ۔ زمین پر جاندار چیزوں کی بقا کے لئے جو حالات ضروری ہیں وہ نہایت مکمل طور پر یہاں موجود ہیں۔ کیا محض اتفاق کے نتیجے میں اتنے عمدہ حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کائنات میں نشانیاں زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لٹو کی مانند گھومتی ہے۔ اگر زمین کی رفتار ایک سو میل فی گھنٹہ ہوتی تو ہمارے دن اور رات اب کے دن اور رات سے دس گنا زیادہ لمبے ہوتے۔ زمین کی تمام ہریالی اور ہماری بہترین فصلیں سو گھنٹے کی مسلسل دھوپ میں جھلس جاتیں اور جوں چُ رہتیں وہ لمبی رات میں پالے کی نذر ہو جاتیں ۔ سورج جو ہماری زندگی کا سرچشمہ ہے ، اپنی سطح پر بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ سے دہک رہا ہے ۔ یہ حرارت اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے پہاڑ بھی اس کے سامنے جل کر راکھ ہو جائیں گے ۔ مگر وہ ہماری زمین سے اتنے مناسب فاصلے پر ہے کہ یہ " کائنات آنگیٹھی" ہمیں ہماری ضرورت سے ذرہ بھر زیادہ گرمی نہ دے سکے ۔ اگر سورج دگنے فاصلہ پر چلا جائے تو زمین پر اتنی سردی پیدا ہوگی کہ ہم سب لوگ جم کر برف ہو جائیں گے ۔ اور اگر وہ آدھے فاصلے پر آجاٹے تو زمین پر اتنی حرارت پیدا ہوگی کہ تمام جاندار اور تمام پودے جل بھن کر خاک ہو جائیں گے ۔ زمین کا کرہ فضا میں سیدھا کھڑا نہیں ہے بلکہ ۲۳ درجے کا زاویہ بناتا ہوا ایک طرف جھکا ہوا ہے یہ جھکاؤ ہمیں ہمارے موسم دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں زمین کا زیادہ سے زیادہ حصہ آباد کاری کے قابل ہو جاتا ہے اور مختلف قسم کی نباتات اور پیداوار حاصل ہوتی ہیں ۔ اگر یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو سمندر سے اٹھتے ہوئے بخارات سیدھے شمال یا جنوب کو چلے جاتے اور ہمارے براعظم برف سے ڈھکے رہتے۔ چاند ہم سے تقریباً ڈھائی لاکھ میل کے فاصلے پر ہے ۔ اس کے بجائے اگر وہ صرف پچاس ہزار میل دور ہوتا تو سمندروں میں مدوجزر کی لہریں اتنی بلند ہوتیں کہ تمام کُرہ ارض دن میں دوبار پانی میں ڈوب جاتا اور بڑے بڑے پہاڑ موجوں کے ٹکرانے سے گھس کر ختم ہو جاتے۔ یہ ہماری کائنات کے چند نہایت معمولی اور بالکل سادہ واقعات ہیں ۔ ان کے سوا بے شمار ایسے واقعات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری زمین پر ان کا اجتماع محض اتفاقی طور پر نہیں ہو سکتا ۔ اور نہ محض اتفاق انہیں باقی رکھ سکتا ہے ۔ یقیناً کوئی ہے جو ان واقعات کو وجود میں لایا ہے اور ان کو اس قدر منظم طریقہ پر مسلسل باقی رکھے ہوتے ہیں ۔ کائنات اتنی مربوط اور منظم ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page