خدا کا وجود
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ جب بھی ہم اس کے کسی واقعہ کو بیان کرتے ہیں تو در حقیقت ہم اس کو محدود کر دیتے ہیں۔ کائنات کے ایک ایک جز کے اندر اتنی حکمتیں ہیں کہ جب بھی ہم اس کی کسی حکمت کا ذکر کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ہم اس کو ایک کمتر درجے کی چیز بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ایسی ایک کائنات کو خدا کی مخلوق ماننا اگر کسی کو خلاف عقل معلوم ہوتا ہے تو اس سے زیادہ خلاف عقل بات یہ ہے کہ اس کائنات کو بے خدا فرض کر لیا جائے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر خدا نے سب چیزیں پیدا کی ہیں تو خود خدا کو کس نے پیدا کیا ہے۔ مگر یہ ایک ایسا سوال ہے جو بہر حال میں پیدا ہوتا ہے۔ خواہ ہم خدا کو مانیں یا نہ مانیں ۔ ہم دو میں سے کسی ایک چیز کو بلا سبب ماننے پر مجبور ہیں۔ یا خدا کو بے سبب مانیں یا کائنات کو۔ ہمارے سامنے ایک عظیم کائنات ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں ، جس کو ہم محسوس کرتے ہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ اس کائنات کے وجود کو تسلیم کریں۔ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ پھر ہم یا تو یہ کہیں کہ کائنات خود سے وجود میں آگئی ہے یا یہ کہیں کہ کوئی اور ہستی ہے جس نے اس کو بنایا ہے ۔ دونوں صورتوں میں ہم کسی نہ کسی کو بلا سبب تسلیم کریں گے۔ پھر کیوں نہ ہم خدا کو بلا سبب مان لیں جس کی صورت میں ہمارے تمام سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔ جبکہ کائنات کو بلا سبب ماننے کی شکل میں کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ وہ تمام سوالات جو اس مسئلہ کے ارد گرد پیدا ہوتے ہیں وہ سب کے سب بدستور باقی رہتے ہیں۔ بعض لوگوں نے فلسفیانہ موشکافی کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کائنات کوئی چیز ہی نہیں ہے ۔ سب کچھ صرف ہمارا وہم ہے ۔ مگر ایک شخص جب یہ بات کہتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ کائنات کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے ۔ آخر یہ سوال ہی کیوں پیدا ہوا کہ کائنات کوئی چیز ہے یا نہیں ۔ سوال کا پیدا ہو نا خود ظاہر کرتا ہے کہ کوئی چیز ہے جس کے بارے میں سوال در پیش ہے۔ اور کوئی ہے جس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے ۔ اس طرح فلسفہ تشکیک بیک وقت انسان اور کائنات دونوں کو تسلیم کر لیتا ہے۔ خدا کے ساتھ ہمارا تعلق خدا کو ماننے کے بعد فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ہمارا تعلق کیا ہے پچاس سال پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اگر خدا کا کوئی وجود ہے بھی تو اس سے ہمارا تعلق نہیں ہو سکتا۔ مگر جدید کوانٹم نظریہ کے ذریعہ خود سائنس نے اس کی تردید کر دی ہے پہلے یہ سمجھایا جاتا تھا کہ کائنات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader