خدا کا وجود
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
لاؤ کے اندر کوئی تنکا گر جائے ۔ ظاہر ہے کہ زمین کو یہ طاقت ہم نے نہیں دی ہے بلکہ اس خدا نے دی ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے۔ کائنات کے جس حصے میں ہم رہتے ہیں اس کا نام نظام شمسی ہے ، اگر آپ کسی دور دراز مقام پر بیٹھ کر اس نظام کا مشاہدہ کر سکیں تو آپ دیکھیں گے کہ اتھاہ خلا کے اندر ایک آگ کا گولہ بھڑک رہا ہے جو ہماری زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ جس سے اتنے بڑے بڑے شعلے نکلتے ہیں جو کئی لاکھ میل تک فضا میں اڑتے چلے جاتے ہیں ، اسی کا نام سورج ہے۔ پھر آپ ان سیاروں کو دیکھیں گے جو سورج کے چاروں طرف اربوں میل کے دائرے میں پروانوں کی طرح چکر لگا رہے ہیں۔ ان دوڑتی ہوئی دنیاؤں میں ہماری زمین نسبتاً ایک چھوٹی دنیا ہے جس کی گولائی تقریباً پچیس ہزار میل ہے۔ یہ ہمارا نظام شمسی ہے جو بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے۔ مگر کائنات کی وسعت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔ کائنات میں اتنے بڑے بڑے ستارے ہیں جن کے اوپر ہمارا پورا نظام شمسی رکھا جا سکتا ہے ۔ اس بے انتہا وسیع اور عظیم کائنات میں ہماری زمین فضا میں اڑنے والے ایک ذرے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ ہم ایک چھوٹے سے کیڑے کی مانند اس ذرے سے چمٹے ہوئے ہیں اور خلا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سفر میں مصروف ہیں۔ یہ کائنات کے اندر ہماری حیثیت ہے ۔ غور کیجیے انسان کس درجہ حقیر ہے ۔ وہ خارجی طاقتوں کے مقابلے میں کس قدر عاجز ہے۔ پھر عجیب ہماری حیثیت یہ ہے تو ہم خالق کائنات سے مدد طلب کرنے کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں ۔ جس طرح ایک چھوٹے بچے کی ساری کائنات اس کے ماں باپ ہوتے ہیں ۔ اس کی زندگی ، اس کی ضرورتوں کی تکمیل اور اس کے مستقبل کا انحصار بالکل اس کے والدین کے اوپر ہوتا ہے۔ اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ انسان اپنے رب کا محتاج ہے ۔ ہم خدا کی مدد اور اس کی رہنمائی کے بغیر اپنے لئے کسی چیز کا تصور نہیں کر سکتے ۔ وہی ہمارا سہارا ہے اور اسی کی طرف ہمیں دوڑنا چاہیئے ۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان خدا کی رہنمائی اور اس کی مدد کا محتاج ہے۔ خدا کے مقابلے میں انسان کی یہی حیثیت قرار پاتی ہے اور خود انسان کے لئے بھی اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ خدا سے اپنے لئے مدد اور رہنمائی کی درخواست کرے۔ یہ حقیقت پسندی ہے اور حقیقت پسندی بلا شبہ انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader