معرفت کا حصول
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت کا حصول یہاں پہنچ کر جب ہم اپنے گرد و پیش کی دنیا پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے خالق کی طرف سے اپنی مخلوقات کے لئے مدد اور رہنمائی کا ایک مستقل عمل جاری ہے۔ جس کو جس چیز کی ضرورت ہے اس کو وہ چیز پہنچائی جا رہی ہے۔ ایک معمولی بھڑ (انجا) کی مثال لیجئے ۔ بھڑ کا طریقہ ہے کہ وہ انڈے دینے سے پہلے زمین میں ایک گڑھا کھودتی ہے اور ایک ٹڈے کو قابو میں کر کے اس کو گڑھے میں رکھ دیتی ہے۔ ایسا کرتے وقت وہ نہایت صحت کے ساتھ ٹڈے کے اس خاص عصبی مقام پر ڈنگ مارتی ہے جس سے ٹڈا مرتا نہیں مگر بے ہوش رہتا ہے اور تازہ گوشت کا ذخیرہ بن جاتا ہے ۔ بھڑ اب اس بے ہوش ٹڈے کے ارد گرد انڈے دیتی ہے تاکہ انڈوں سے نکل کر بچے اس زندہ ٹڈے کو دھیرے دھیرے کھاتے رہیں۔ کیونکہ مردہ گوشت ان بچوں کے لئے مہلک ہے۔ اتنا انتظام کر لینے کے بعد بھڑ وہاں سے اڑ جاتی ہے اور پھر کبھی اگر بچوں کو نہیں دیکھتی۔ مگر اس کے باوجود بھڑ کا یہ بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو وہ بھی ٹھیک اسی عمل کو دہراتا ہے ساری بھڑیں اس کام کو زندگی میں ایک بار اور پہلی بار بالکل ٹھیک ٹھیک انجام دیتی ہیں۔ غور کیجئے کہ وہ کون ہے جو اس بھڑ کے بچے کو سکھاتا ہے کہ اپنی نسل کو جاری رکھنے کے لئے وہ بھی آئندہ وہی عمل کرے جو اس کے ساتھ اس کے ماں باپ نے کیا تھا۔ حالانکہ اپنے ماں باپ کے عمل کو اس نے کبھی نہیں دیکھا۔ اسی حیرت ناک عمل کو دیکھ کر فلسفی برگساں نے کہا تھا؛ کیا بھڑ نے کسی اسکول میں ماہر عضو یات کی تعلیم حاصل کی ہے ۔ اسی طرح ایک لمبی مچھلی کو لیجئے جسے انگریزی میں (Eal) کہتے ہیں۔ ڈنمارک کے ماہر حیوانات ڈاکٹر شمت (Johannes Schmidt) نے کئی سال کی تحقیق کے بعد معلوم کیا ہے کہ یہ عجیب و غریب جاندار اپنی زندگی کی جوانی میں ہر جگہ کے آبی مرکزوں اور ندیوں سے نکل نکل جزیرہ برموڈا کے پاس جمع ہوتے ہیں جہاں بحر اٹلانٹک سب سے زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ یورپ کی ایلین سمندر میں تین ہزار میل کا راستہ طے کر کے یہاں پہنچتی ہیں۔ وہیں یہ سب مچھلیاں بچے دیکر مر جاتی ہیں۔ یہ بچے جب آنکھ کھولتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک سنسان آبی مرکز میں پڑا ہوا پاتے ہیں۔ ان کے پاس بظاہر معلومات حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ پھر بھی وہ وہاں سے لوٹ کر دوبارہ انہی کناروں پر آ لگتے ہیں جہاں سے ان کے والدین چلے گئے تھے۔ وہ آگے بڑھتے ہوئے اپنے ماں باپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader