Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

معرفت کا حصول

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

والی ندیوں، جھیلوں اور آبی مرکزوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی آبی مرکز سے انہیں ہمیشہ کے لئے غائب نہیں ہو جاتیں۔ اور یہ سب کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ امریکہ کی کوئی ایل یورپ میں نہیں ملتی اور نہ یورپ کی کوئی ایل امریکہ کے سمندروں میں پائی جاتی ہے ۔ پھر آندرغت کی یہ معلومات انہیں کہاں سے حاصل ہوتی ہیں۔ یہ کام "وحی" کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ وہی، پیغام رسانی کے اس مخفی سلسلے کو کہتے ہیں جو خدا اور اس کی مخلوقات کے درمیان جاری ہے۔ کوئی مخلوق زندگی گزارنے کے لئے کیا کرے اور خالق کائنات نے اپنی مجموعی اسکیم کے اندر اس کے ذمے جو فرض عائد کیا ہے اس کو کس طرح انجام دے، اسی کو بتانے کا نام وحی ہے۔ اس وحی کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جس کا تعلق انسان کے سوا دوسری مخلوقات سے ہے، اور دوسری وہ جس کا تعلق انسان سے ہے۔ انسان کے سوا جتنی زندہ مخلوقات اس زمین پر پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب ارادے سے خالی ہیں۔ ان کا کام کسی سوچے سمجھے فیصلے اور ارادے کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ایک غیر شعوری قسم کے طبعی میلان کے تحت ہوتا ہے جس کو ہم جبلت (Instinct) کہتے ہیں یہ گویا ایک طرح کی زندہ مشینیں ہیں جو محدود دائرے میں اپنا متعین عمل کر کے ختم ہو جاتی ہیں ۔ اس قسم کے جانداروں کے لئے ترک و اختیار کا کوئی سوال نہیں۔ اس لئے ان کے پاس جو وحی آتی ہے وہ حکم اور قانون کی شکل میں نہیں آتی بلکہ جبلت یا عادتِ فطری کی شکل میں آتی ہے ۔ ان کی ساخت اس طرز کی بنا دی جاتی ہے کہ وہ ایک مخصوص کام کو بار بار دہراتے رہیں۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فیصلے کی قوت رکھتا ہے۔ وہ اپنے ارادے سے کسی کام کو کرتا ہے اور کسی کو نہیں کرتا ۔ وہ ایک کام کرنا شروع کرتا ہے ، پھر اسے بالقصد چھوڑ دیتا ہے اور ایک کام کو نہیں کرتا اور بعد کو اسے کرنے لگتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ انسان بھی اگر چہ اسی طرح خدا کا بندہ ہے جس طرح اس کی دوسری مخلوقات ، مگر اس کو حالت امتحان میں رکھا گیا ہے ۔ جو کام دوسری مخلوقات سے عادتِ فطرت کے تحت لیا جار ہا ہے انسان کو وہی کام اپنے فیصلے اور ارادے سے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے پاس جو وحی آتی ہے وہ حکم اور قانون کی شکل میں آتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں عام حیوانات کی وحی ان کی فطرت میں پیوست کر دی گئی ہے ۔ اور انسان کی وحی خارج سے اسے سنائی جاتی ہے۔ عام حیوانات کو کیا کرنا ہے اس کا علم وہ پیدائشی طور پر اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ اس کے برعکس انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page