Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

معرفت کا حصول

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت کا علم اور دنیا میں زندگی گزارنے کا طریقہ جو خدا کی طرف سے آیا ہے وہ اسی دوسری قسم کی وحی کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے۔ وحی کی حقیقت کو ہم بس اسی قدر سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کا مطالبہ کرنا دراصل ایک ایسا مطالبہ کرنا ہے جو انسان کے بس سے باہر ہے۔ ایک اڑتے ہوئے جہاز کو زمین سے لاسلکی پیغام بھیجا جاتا ہے جس کو ہوائی جہاز پر بیٹھا ہوا آدمی پورے یقین کے ساتھ صاف الفاظ میں سن لیتا ہے۔ یہ ہماری قریبی زندگی کا ایک واقعہ ہے۔ مگر آج تک اس کی مکمل توجیہہ نہیں ہوسکی کہ یہ واقعہ کس طرح وجود میں آتا ہے۔ یہی حال ان تمام واقعات کا ہے جن سے ہم اس زمین پر واقف ہیں۔ ہم تمام حقیقتوں کو صرف مجمل طور پر جانتے ہیں۔ جیسے ہی ہم کسی حقیقت کو آخری حد تک سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ہماری قوتیں جواب دینے لگتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی کلی واقفیت ہمارے بس سے باہر ہے۔ ایسی صورت میں وحی کی حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنے کا مطالبہ کرنا کسی ایسے ہی آدمی کا کام ہوسکتا ہے جو خود اپنی حقیقت سے بے خبر ہو۔ سائنس نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حقیقتِ مطلق کا علم حاصل کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ اس سلسلے میں میں پروفیسر ہائٹرن برگ (Heisen Berg) کی دریافت کا حوالہ دوں گا جس کو وہ اصول عدم تعین (Principle of Indeterminacy) کا نام دیتا ہے۔ جیمز جینز نے اس اصول کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے:۔ ” قدیم سائنس کا خیال تھا کہ کسی ذرے مثلاً ایک الیکٹران کا مقام مکمل طور پر بتایا جا سکتا ہے جبکہ ہم یہ جان لیں کہ کسی خاص وقت میں فضا کے اندر اس کا مقام اور اس کی رفتار کیا ہے۔ اگر ان معلومات کے ساتھ بیرونی اثر انداز طاقتوں کا بھی علم ہو جائے تو الیکٹران کے تمام مستقبل کو معین کیا جا سکتا تھا۔ اور اگر کائنات کے تمام ذروں کے متعلق ان باتوں کا علم ہو جاتا تو ساری کائنات کے مستقبل کے متعلق پیشین گوئی کی جا سکتی تھی۔ مگر ہائٹرن برگ کی تشریح کے مطابق جدید سائنس اب اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ان مقدمات کی دریافت میں قوانین قدرت حائل ہیں۔ اگر ہم یہ جان لیں کہ ایک الیکٹران فضا میں کس خاص مقام پر ہے جب بھی ہم ٹھیک ٹھیک نہیں بتا سکتے کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ قدرت کسی حد تک گنجائش سہو (Margin of Error) کی اجازت دیتی ہے، لیکن اگر ہم اس گنجائش میں گھسنا چاہیں تو قدرت ہماری کوئی مدد نہیں کرتی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدرت بالکل صحیح پیمانوں سے قطعا نا آشنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page