معرفت کا حصول
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح اگر ہمیں کسی الیکٹران کی حرکت کی ٹھیک ٹھیک رفتار معلوم ہو تو قدرت ہمیں فضا کے اندر اس کا صحیح مقام دریافت کرنے نہیں دیتی ، گویا کہ الیکٹران کا مقام اور اس کی حرکت کسی لالٹین کی سلائڈ کی دو مختلف سمتوں پر نقش ہیں۔ اگر ہم سلائڈ کو کسی خراب لالٹین میں رکھیں تو ہم دور خورں کے درمیان نصف کوروشنی میں لاسکتے ہیں۔ اور الیکٹران کے مقام اور اس کی حرکت دونوں کو کچھ نہ کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ اچھی لالٹین کے ذریعہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم ایک پر جتنی زیادہ روشنی ڈالیں گے ، دوسرا اتنا ہی دھندلا ہوتا چلا جائے گا۔ خراب لالٹین ، قدیم سائنس ہے جس نے ہمیں اس فریب میں مبتلا کر دیا کہ اگر ہمارے پاس بالکل مکمل لالٹین ہو تو ہم کسی خاص وقت پر ذرے کے مقام اور اس کی رفتار کا ٹھیک ٹھیک تعین کر سکتے ہیں۔ یہی دھوکہ تھا جس نے سائنس میں جبریت (Determinism) کو داخل کر دیا ، مگر اب جبکہ جدید سائنس کے پاس زیادہ بہتر لالٹین ہے اس نے ہم کو صرف یہ بتایا ہے کہ حالت اور حرکت کی تعیین حقیقت کے دو مختلف پہلو ہیں جنہیں ہم بیک وقت روشنی میں نہیں لاسکتے (ماڈرن سائنٹفک تھاٹ، صفحه ۱۷ - ۱۸) اس سلسلہ میں آخری سوال یہ ہے کہ خدا کی وحی جو مختلف زمانوں میں انسانوں کے پاس آتی رہی ہے ان میں سے کون سی وحی ہے جس کی آج کے انسانوں کو پیروی کرنا ہے۔ اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔ بعد کے لوگوں کے لئے وہی وحی قابل اتباع ہو سکتی ہے جو سب کے بعد آئی ہو۔ حکومت ایک ملک میں کسی شخص کو اپنا سفیر بنا کر بھیجتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس شخص کی سفارت اسی وقت تک کے لئے ہے جب تک وہ اس عہدے پر باقی ہو ، جب اس کی مدت کارکردگی ختم ہو جائے اور دوسرے شخص کو اس عہدے پر مامور کر دیا جائے تو اس کے بعد وہی شخص حکومت کا نمائندہ ہوگا جس کو سب سے آخر میں نمائندگی کا موقع دیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ آخری رسول ہیں ، جو آج اور آئندہ قیامت تک کے لئے انسانیت کے رہنما ہیں ، جو ساتویں صدی عیسوی میں عرب سے اٹھے تھے۔ جن کے بعد نہ کوئی نبی ہوا اور نہ آئندہ کوئی نبی ہوگا ۔ آپ کا تمام نبیوں کے بعد تشریف لانا اس بات کی کافی وجہ ہے کہ آپ ہی کو حال اور مستقبل کے لئے خدا کا نمائندہ قرار دیا جائے۔ کیونکہ بعد کو آنے والا اپنے سے پہلے آنے والوں کو منسوخ کر سکتا ہے مگر پہلے آنے والا اپنے بعد آنے والے کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ ہم ان تمام نبیوں کو مانتے ہیں جو خدا کی طرف سے آئے ، ان میں سے کسی کا بھی ہم انکار نہیں کرتے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کے رسولوں میں تفرق نہ کرو۔ (بقره - آخر) مگر یہ ظاہر ہے کہ اطاعت ۷۵ تے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader