مادی فلسفہ
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
اغوا کر لی جائے گی یا واپس اپنے گھر پہنچے گی ۔ انگلینڈ میں قاتل کے لئے موت کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا تھا ۔ مگر جرائم کی بڑھتی ہوئی وبا کو دیکھ کر وہاں کے ایک مشہور اہل قلم اور سابق ممبر پارلیمنٹ سر ایلین ہربرٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ سزائے موت کو دوبارہ جاری کیا جائے ۔ اور نہ صرف قاتل کو بلکہ چوروں ، نقب زنوں اور عورت پر حملہ کرنے والوں کو بھی یہی سزادی جائے۔ اوپر کی گفتگو سے جہاں مادی نظریات کی ناکامی ثابت ہوتی ہے وہیں یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ ان کے اندر وہ کون سا بنیادی خلا ہے جس نے انھیں مکمل ناکامی سے دوچار کیا ہے۔ یہ خلا دراصل محرک کا خلا ہے ۔ آپ ایک کارخانے کو صرف بجلی کا بٹن دبا کر حرکت میں لا سکتے ہیں ۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ وہ اسی وقت کوئی کام کرتا ہے جب اس کے اپنے اندر اس کے کرنے کا جذبہ پیدا ہو چکا ہو ۔ آج دنیا کے پاس زندگی گزارنے کے لئے بہترین قسم کے کاغذی نقشے ہیں اور اس کو عمل میں لانے کے لئے جدید ترین ساز وسامان موجود ہیں ۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لئے بے کار پڑا ہوا ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ آج مجرمین کو پکڑنے کی ٹکنیک اتنی ترقی کر گئی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ملک میں جرم کرکے دوسرے مقام پر بھاگ جانے کی کوشش کرے تو اس کے سرحد پار کرنے سے پہلے ریڈیو فوٹو کے ذریعہ ساری دنیا میں اس کا حلیہ نشر کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن پولیس کے افراد اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر انجام نہیں دیتے ، اس لئے جرم کی روک تھام کے یہ سارے مواقع بیکار ثابت ہورہے ہیں ۔ اقتصادیات اور اعداد و شمار کے ماہرین نہایت کامیاب طریقے پر" کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ فائدہ" حاصل کرنے کے منصوبے بناتے ہیں ۔ مگر عملہ کے اندر لوٹ کھسوٹ کی ذہنیت کی وجہ سے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے وصول کی ہوئی رقم کم سے کم لوگوں کی جیبوں میں چلی جاتی ہے ۔ حکومت کی تشکیل کے لئے نہایت وسیع قسم کے جمہوری طریقے دریافت کئے گئے ہیں ۔ مگر لیڈروں اور سیاسی کارکنوں کے غلط استعمال کی وجہ سے جمہوریت عملاً ایک تماشا بن کر رہ گئی ہے ۔ ابھی حال میں ( اپریل ۱۹۶۰ء) جنوبی کوریا کے الیکشن کے بعد اعلان کیا گیا کہ صدارت کے انتخاب میں ڈاکٹر سنگھ رہی کو ۹۰ فی صدی ووٹ ملے ہیں ۔ مگر اعلان کے بعد جب عوام نے بغاوت کر دی اور ڈاکٹر رہی کو اپنا صدارتی محل چھوڑ کر بھاگنا پڑا تو معلوم ہوا کہ "۹۰ فی صدی " کی حقیقت اعداد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader