Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مادی فلسفہ

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

و شمار کے دھوکے کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ سماجی اصلاح کے لئے مستقل محکمے قائم ہیں اور اس کے لئے ایسے ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو انسانی آرزوؤں کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں مگر عملاً یہ صرف ان لوگوں کے لئے لوٹ کھسوٹ کا ایک عنوان ہے جو اس کام پر مامور کئے گئے ہیں، آج عالمی اتحاد کے نہایت خوبصورت نظریے کتابوں میں لکھے ہوئے موجود ہیں اور آپس میں تعلق قائم کرنا اتنا آسان ہو گیا ہے کہ آپ ٹیلی فون رسیور اٹھا کر دنیا کے کسی بھی حصے کے آدمی سے بات کر سکتے ہیں اور ہوائی جہاز سے اڑ کر چند گھنٹے میں کہیں سے کہیں پہنچ سکتے ہیں۔ مگر انسان کے اپنے رویے کی وجہ سے یہ سارا ساز و سامان ایک مصیبت ثابت ہو رہا ہے۔ آج سائنس کی بہترین کوششیں صرف ایسے آلات تیار کرنے میں لگی ہوئی ہیں جو دم بھر میں زندہ انسانوں اور آباد شہروں کو ختم کردیں۔ ایک دوسرے کے خلاف شبہات کا یہ حال ہے کہ امریکہ کی اسٹریٹجک ائیر کمانڈ کے تین ہزار ہوائی جہاز ہر وقت آسمان میں اڑتے رہتے ہیں تاکہ اپنے ملک کو اچانک حملے سے بچائیں۔ دوسری طرف روس کی سرحدوں پر ہزاروں آدمی نہایت قیمتی آلات اور دور بینیں لئے ہوئے رات دن یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ امریکہ کا کوئی جاسوس ہوائی جہاز ان کی سرحد کے اندر تو نہیں گھس آیا ہے۔ محرک کی ضرورت اس سے معلوم ہوا کہ انسانی بہتری کے لئے آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ کوئی قانونی ڈھانچہ یا مادی ساز و سامان نہیں ہے بلکہ ایک ایسا نظریہ ہے جو ذمہ داری کا احساس پیدا کرے، جو آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھارے کہ وہ اپنی اندرونی تحریک سے صحیح کام کرنے پر مجبور ہو اور غلط سمت میں جانے سے بچے ۔ یہ کام صرف مذہب کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ چند سو برس پہلے بڑے جوش سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ زندگی گزارنے کے سلسلے میں انسان کو مذہب کی ضرورت نہیں۔ مذہب حرام و حلال کے کچھ اصول دیتا ہے، وہ ہم اپنے قانون ساز ادارے کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ مذہب دوسری دنیا کی سزا سے ڈراتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہو، اس کے لئے ہمارا عدالتی نظام اور ہماری جیلیں کافی ہیں۔ مذہب یہ ترغیب دلاتا ہے کہ ہمارے حکموں کو مانو تو تمہاری اگلی زندگی خوش گوار ہوگی۔ اس کے لئے بھی ہم کو موت کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنی مادی ترقیوں کے ذریعہ ہم اسی دنیا کی زندگی کو جنت بنا سکتے ہیں۔ مگر یہ تمام امیدیں واقعات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page