Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مادی فلسفہ

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

اور سالانہ سواد و کروڑ روپے کا خرچ بلانکٹ سفر کوروکنے میں کامیاب نہیں ہوا تو حکومت نے ایک اخلاقی تدبیر سوچی۔ حکومت کی طرف سے ایک خاص پوسٹر چھپوا کر تمام اسٹیشنوں پر لگا دیا گیا ۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔ Ticketless travel is a social evil یعنی بے ٹکٹ سفر کرنا سماجی گناہ ہے۔ مگر اس کا حاصل اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوا کہ کرایہ وصول نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو جو کچھ نقصان ہو رہا تھا اس میں اس پروپیگنڈے کے اخراجات کا مزید اضافہ ہو گیا۔ اصل صورت حال بدستور اپنی جگہ باقی رہی ۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نقطۂ نظر بار بار کے تجربے میں قطعی طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ مگر کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اس کے باوجود ساری دنیا میں اخلاق کی اسی خیالی بنیاد پر تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ آج جو منصوبے بن رہے ہیں' جو سیاسی اور سماجی ڈھانچے کھڑے کیے جا رہے ہیں ۔ وہ سب اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ افراد اور سرکاری عملہ اس کی تکمیل میں اپنا حصہ صحیح طور پر ادا کریں گے ۔ اس کے بغیر کسی اسکیم کی کامیابی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ مگر حالات پکار رہے ہیں کہ یہ امیدیں بالکل فرضی ہیں۔ اس کے لیے کالج کے طلبہ کی مثال کافی ہوگی ۔ کالجوں میں جو لوگ پڑھتے ہیں ان کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ وہ آج کے شہری اور کل کے سرکاری لوگ ہیں ۔ ان کی زندگی میں ہم بیک وقت دونوں کردار دیکھ سکتے ہیں ۔ ان طلبہ کو اخلاق اور تہذیب سکھانے کے لئے کروڑوں روپے صرف کئے جا رہے ہیں مگر ان کا حال یہ ہے کہ سال بھر کھیل کود میں گزارتے ہیں اور جب امتحان آتا ہے تو پرنسپل کو پستول دکھا کر پرچہ آؤٹ کرلیتے ہیں۔ ان کی آزادی بلکہ آوارگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ناچ گانے کی ایک تقریب میں شرکت کے لئے اگر انھیں رعایتی پاس نہ ملے تو وہ اس قدر او دھم مچاتے ہیں کہ پولیس کو گولی چلانی پڑتی ہے اور سارے شہر میں کرفیو نافذ ہو جاتا ہے۔ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بل پر ہمارے سیاسی لیڈروں نے بڑی بڑی اسکیمیں بنائی ہیں اور اس کے لئے اربوں روپے کے ٹیکس ملک کے اوپر لا در ہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سماج اور موجودہ سرکاری مشینری دونوں کسی قومی ذمہ داری کو اٹھانے کے بالکل نااہل ہو چکے ہیں۔ سڑکوں پر سے مین ہول کے ڈھکن کا غائب ہو جانا سماج کی طرف سے اس بات کا انتہائی اعلان ہے کہ وہ آپ کی کسی اسکیم کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں۔ سرکاری عملہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page