Urdu book · اسلام اور عصر حاضر

مادی فلسفہ

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر رشوت اور نا کر دگی کی بڑھتی ہوئی وہانات بتا رہی ہے کہ جن ہاتھوں سے کام لیا جانے والا ہے وہ ہاتھ مفلوج ہو چکے ہیں۔ آج کے انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ صرف اس چیز کو مانتا ہے جس کی صداقت تجربے سے ثابت ہو گئی ہو۔ مگر یہی انسان ایک ایسے عمل پر اب تک اصرار کئے چلا جا رہا ہے جس کو تجربہ رد کر چکا ہے اور جس کے حق میں نظری استدلال تو کبھی موجود ہی نہیں تھا۔ عیسائیت دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کی امیدوں کا مرکز مذہبی تعلیمات ہیں ان میں ایک تو عیسائیت کو ماننے والے ہیں جو بڑے زور شور کے ساتھ اپنے مذہب کو ان مسائل کے حل کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں عیسائی مصنفین کی اچھی خاصی تعداد نے اسی قسم کے مضامین لکھنے کو اپنا مستقل موضوع بنا لیا ہے۔ ان میں بعض چوٹی کے مفکرین بھی شامل ہیں۔ اس مقصد کے لئے اجتماعی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ مثلاً سوئٹزرلینڈ سے ایک تحریک اٹھی ہے جس کا نام ہے اخلاقی اسلحہ بندی (Moral Re-armament) اس کے بانی ڈاکٹر فرینک بک مین ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خدا پرستی کے تحت اخلاقی قدروں کو رواج دیا جائے اور لوگوں کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی پیدا کی جائے۔ خاص طور پر ایمانداری، پاکیزگی، بے غرضی، باہمی خیر خواہی اور محبت کو پھیلایا جائے۔ اسی طرح امریکہ میں خاص اسی مقصد کیلئے ایک ادارہ (Research Centre in Creative Altruism) کے نام سے ۱۹۲۹ء سے قائم ہے جس کو ایک پبلک فنڈ سے پندرہ ہزار ڈالر سالانہ کی امداد ملتی ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر سور و کن (Sorokin) ہیں۔ ۱۹۵۰ء میں انہوں نے پہلی بار اپنے تحقیق و مطالعہ کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سب سے اہم کام انسان کے اندرون یا اس کے نفس کی اصلاح ہے۔ جس پر تمام تر خود غرضی کا تسلط ہو گیا ہے۔ اور یہ ضروری ہے کہ اس کے برعکس اس میں بے لوث محبت کے اس جذبے کو پیدا کیا جائے اور ابھارا جائے جو آفاقی ہو۔ فرد کی اصلاح کے بغیر جو انقلاب بھی لایا جائے گا وہ بالکل سطحی ہوگا اور ساری کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ موجودہ حالات کا علاج تجویز کرتے ہوئے وہ اپنی کتاب (Crisis of our Age) میں لکھتے ہیں : ”انسان کی پوری ذہنیت اور اس کے جملہ رجحانات میں اس تبدیلی کی ضرورت ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page