مادی فلسفہ
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے انسان کو ملنے والا ہے اس کے لئے آخر میں کیوں کوشش کروں اور حبس بد عملی کی سزا دوسرے وجود کو بھگتی ہے اس سے میں کیوں ڈروں۔ پر جنم میں روح کے قالب بدلنے کو جس شکل میں پیش کیا گیا ہے ممکن ہے اس کو منطقی استدلال اور فلسفیانہ بحثوں کے ذریعہ ایک انسان کا مختلف جنم قرار دیا جا سکے مگر قطعی طور پر یہ ایک لفظی استدلال ہوگا ۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ بات بالکل ناقابل فہم ہے کہ اس طرح کے مختلف جنموں کو ایک انسان کا جنم کس بنا پر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اس نظرئے کے اندر انسانی کامیابی کا جو تصور دیا گیا ہے اس میں بھی ہمارے لئے کوئی کشش نہیں ہوسکتی۔ پر جنم کے مطابق انسان کی کامیابی یہ ہے کہ اس کی روح مختلف قالبوں میں پیدا ہو کر ارتقار کرتی رہے یہاں تک کہ بالآخر خدا یا پر ماتما کے وجود میں گم ہو جائے جس کو نجات یا نر دان کہا جاتا ہے۔ یہاں مجھے اس نظرئے کے علمی اور فلسفیانہ پہلوؤں سے بحث نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کے ایک نظرئے میں وہ کون سی کشش ہے جس کے لئے آدمی دنیا کے دکھ جھیلے اور زندگی بھر خواہ مخواہ ذمہ داریاں پوری کرنے اور حقوق ادا کرنے کا کھڑاگ اپنے سر مول لے۔ اس کامیابی میں انسان کو کیا ملا۔ اس کو زیادہ سے زیادہ پر ماتما کی اپنی تکمیل کہا جاسکتا ہے نہ کہ کسی انسان کا ارتقار ۔ پھر حبس عمل کا فائدہ تمام تر دوسرے کو ملنے والا ہو اس میں آدمی کیوں محنت کرے۔ ممکن ہے کچھ مخصوص قسم کے فلسفیانہ ذوق رکھنے والے لوگوں کو اس طرح کے نامعلوم ارتقا سے دلچسپی ہو۔ مگر عام انسان جن جذبات اور جن تمناؤں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اس کے لئے اس میں کوئی کشش نہیں ہوسکتی اور صرف یہ واقعہ فلسفۂ نزوان کے خلاف فطرت اور خلاف واقعہ ہونے کا کافی ثبوت ہے۔ اسلام اس مختصر جائزے کے بعد اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے کون سا دھرم سب سے بہتر ہے۔ اس کا جواب اسلام کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ تمام خصوصیات اس کے اندر مکمل ترین شکل میں موجود ہیں جو ایسے ایک دھرم میں ہونا ضروری ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام کی طرف سے میں کسی ایسی چیز کا انکشاف کر نے والا ہوں جس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader