مادی فلسفہ
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
بقیہ دنیا کو اب تک خبر نہیں تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی یہ حیثیت اپنے اصول کے نئے پن کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ صرف اس لئے ہے کہ جو کچھ دوسروں کے پاس بگڑی ہوئی شکل میں ہے وہ اس کو صحیح اور بے آمیز شکل میں پیش کرتا ہے ۔ خدا اور آخرت کا تصور جو دوسرے مذاہب میں موجود ہے ، یہی اسلام کے حل کی اصل بنیاد ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں یہ حقیقت صدیوں کے گرد و غبار میں چھپ گئی تھی اور اسلام نے اس کو تمام ملاوٹوں سے صاف کرکے خالص شکل میں ہمارے سامنے رکھا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کی طرف دنیا کو ہم جو بلا رہے ہیں اس کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ اسلام کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے جو ابھی تک کسی کو معلوم نہیں تھی ۔ بلکہ یہ وہی ابدی حقیقت ہے جو ہمیشہ سے انسانوں کے پاس موجود رہی ہے ۔ چونکہ لوگوں نے اپنی غفلت سے اس کو مٹا دیا تھا یا اسے بدل ڈالا تھا اس لئے خدا نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ اس کو دوبارہ اپنی صحیح اور مکمل صورت میں ہمارے پاس بھیجا ہے ۔ انسان کو اپنی زندگی کی تنظیم کے سلسلے میں بہت سی چیزیں درکار ہوتی ہیں ۔ اس کے لئے ایک قانون کی ضرورت ہے ، اس کے لئے ایک معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہے ، اس کو شادی بیاہ کے ایک متعین طریقے کی ضرورت ہے ۔ لباس ، کھانا ، پینا ، اٹھنا ، بیٹھنا ، ہر چیز میں اس کے لئے کچھ آداب و قواعد کی ضرورت ہے ۔ حتیٰ کہ یہ بھی اس کی ایک ضرورت ہے کہ اس کا ایک سماجی تہوار ہو جس میں لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں اور اپنی جائز تمنائیں پوری کریں ۔ اس طرح کی اور بہت سی چھوٹی بڑی چیزیں ہیں جو زندگی گزارنے کے لئے لازمی ہیں اور ان کے متعلق بہر حال انسان کو ایک متعین شکل بتانا ضروری ہے ۔ بلاشبہ یہ سب کچھ اسلام کے اندر موجود ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں گفتگو کی جاسکتی ہے کہ اسلام کی بتائی ہوئی شکل دوسری مروجـہ شکلوں کے مقابلے میں کس طرح زیادہ جامع اور زیادہ مفید ہے ۔ مگر یہاں مجھے ان تمام پہلوؤں پر بحث نہیں کرنی ہے ۔ جیسا کہ پچھلی گفتگو سے واضح ہو چکا ہے ۔ زندگی میں ان چیزوں کی ضرورت زیادہ تر عملی پہلو سے ہے نہ کہ حل مسئلہ کے پہلو سے ۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں ایک تفصیلی ڈھانچے کا موجود ہونا بذاتِ خود زندگی کو بہتر نہیں بناتا ۔ یہ سب چیزیں اگرچہ زندگی کیلئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader